اشاعتیں

جمعہ کی فضیلت کے بارے میں احادیث

تصویر
اس صفحے پر آپ کو جمعہ کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث ملیں گی، آپ انہیں خود پڑھیں اور ثواب کی نیت سے شیئر بھی کردیں سب سے افضل دن  جمعہ  حدیث شریف میں ہے: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَیَّامِکُمْ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیہِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِیہِ قُبِضَ ترجمہ: تمہارے دنوں میں سے زیادہ فضیلت والا جمعہ کا دن ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔  (رواہ ابوداؤ د ،والنسائی ،وابن ماجہ ،والدارمی ) دنوں کا سردار جمعہ  حدیث شریف میں ہے: إِنَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ سَیِّدُ الْأَیَّامِ وَأَعْظَمُہَا عِنْدَ اللَّہِ، وَہُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ یَوْمِ الْأَضْحَی وَیَوْمِ الْفِطْرِ، فِیہِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللَّہُ فِیہِ آدَمَ۔۔۔۔۔۔الخ  ترجمہ: بے شک جمعہ کا دن دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک زیادہ عظمت والا ہے، جمعہ کا دن اللہ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ افضل ہے۔  (رواہ ابن ماجہ) جمعہ اور شب جمعہ وفات کی فضیلت  مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَوْ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ إِلَّا وَقَاہُ اللَّہُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ ترجمہ: جو مسل

Surah ikhlas translation in urdu

تصویر
Surah Ikhlas details Surah no             = 112 Nazool no           =22 Para no               = 30 Total ayat           =04 Ruku                  = 1 Makkhi surah Surah ikhlas translation in urdu سورة الإخلاص سورة الاخلاص مکی ہے اس میں چار آیات اور ایک رکوع ہے بسم الله الرحمن الرحيم قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1)  ترجمہ:       آپ کہیے وہ اللہ ایک ہے  اللَّهُ الصَّمَدُ (2)  ترجمہ:       اللہ بےنیاز ہے  لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) ترجمہ:      اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے   وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4)  ترجمہ:       اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔ Surah ikhlas tilawat 100 time    سورة الاخلاص کے متعدد نام  اس سورت کے متعدد نام ہیں،اس کا زیادہ مشہور نام الاخلاص ہے،  اس سورت کے دیگر نام یہ ہیں:سورة التفرید، سورة التوحید، سورة النجات، سورة الولایۃ، سورة المعرفتہ اور سورة الاساس وغیرہ۔ سورۃ الاخلاص کے مضامین اس سورت میں اسلام کے سب سے اہم عقیدہ کا ذکر ہے جو توحید باری تعالی ہے۔ اس سورت میں عیسائیوں کا رد ہے، جو تین خداؤں کے قائل ہیں اور مشرکین کا رد ہے، جو اللہ تعالیٰ

Islamic Quotes in urdu

تصویر
زمانہ غفلت میں جتنی معمولی سے معمولی نیکی کا موقع ملے ہرگز نہ چھوڑیں کیونکہ یہی نیکیاں آئندہ  آپ کو صراط مستقیم پر لانےاور وہاں قائم رکھنے میں مدد کریں گی۔ ( شیطان کے دھوکے ،مضمون سے اقتباس) اللہ تعالی جب آپ کو کوئی بات سمجھانا چاہتا ہے یا آپ کی طرف کوئی پیغام پہنچانا چاہتا ہے تو وہ آپ سے براہ راست مخاطب  نہیں ہوتا، نہ ہی وہ آپ کی طرف جبریل کو بھیجتا ہےبلکہ وہ اپنی بات آپ کے دل میں ڈال دیتا ہے یا  آپ کو خواب میں کچھ دکھا دیتا ہے،اس لیے اپنے دل کی باتوں اور خوابوں کو ہرگز نظر انداز نہ کریں کیونکہ یہ پیغام الہی کے ذرائع ہیں۔

نماز کے طریقے کے بارے میں احادیث | Hadees about namaz ka tarika in urdu

تصویر
اس صفحے پر ہم نمازکے طریقے کے حوالے سے احادیث مبارکہ جمع کر رہے ہیں، اس کی ترتیب یہ ہوگی، شروع میں امام کے پیچھے قرات کے بارے میں احادیث ہوں گی، پھر نماز میں ہاتھ باندھنے سے متعلق اور پھر رفع یدین سے متعلق احادیث ہوں گی، اس کے بعد نماز کے ہر پہلو سے متعلق احادیث بالترتیب جمع کردیں گے۔ ان شاء اللہ  امام کے پیچھے قرات کے بارے میں حدیث  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے امام کی قرات ہی کافی ہے (یعنی خود قرات نہ کرے)۔ (یہ حدیث موطا امام مالک میں ہے)۔ جب امام قرات کرے تو خاموش رہو۔ (یہ حدیث آثار السنن میں ہے اور یہ حدیث صحیح ہے) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:  جس نے نماز کی کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورت فاتحہ نہ پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی، سوائے اس صورت میں کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔ (یہ حدیث آثار السنن میں موطا امام مالک کے حوالے سے منقول ہے، اس کی اسناد صحیح ہے) حدیث شریف میں ہے: فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ترجمہ:  جب امام قرات کرے تو خاموش رہو۔ (شرح معانی آلاثار) حدیث شریف میں ہے: مَنْ کَانَ لَہُ إِمَام

مغرب کی تیسری رکعت میں ملنے کا طریقہ

تصویر
 مغرب کی تیسری رکعت میں ملنے کا طریقہ  سوال: اگر کوئی شخص مغرب کی تیسری رکعت میں رکوع کے بعد شامل ہوتا ہے تو وہ کیسے بقیہ نماز ادا کرے گا.؟ جواب: اگر اسے تیسری رکعت کا رکوع مل جاتا تو ایک رکعت مل جاتی لیکن اسے تیسری رکعت کا بھی رکوع نہیں ملا,  اس وجہ سے اسے ایک رکعت بھی نہیں ملی۔ اس لیے اب وہ امام صاحب کے بعد اپنی تین رکعتیں ادا کرے گا۔ اس کا طریقہ یہ ہوگا,جب امام صاحب سلام پھیر دیں گے تو یہ کھڑا ہو جائے گا, پہلی رکعت ادا کرے گا,  پہلی رکعت کے بعد قعدہ نہیں ہوتا,  اس لیے قعدہ نہیں کرےگا۔  پھر دوسری رکعت ادا کرکے قعدہ کرے گا اور التحیات ۔۔عبدہ و رسولہ تک پڑھ کر کھڑا ہو جائے گا۔ پھر تیسری رکعت پڑھے گا اور قعدے میں بیٹھ کر التحیات,  درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے گا۔ اگر کوئی شخص تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے مل جاتا ہے تو اس صورت میں اسے ایک رکعت مل جائے گی,  اس وجہ سے امام صاحب کے بعد اب وہ دو رکعتیں پڑھے گا۔ اس کا طریقہ یہ ہوگا,  جب امام صاحب سلام پھیر دیں گے تو وہ کھڑا ہو جائے گا, کیونکہ یہ اس کی دوسری رکعت ہے , اس وجہ سے یہ اس کے بعد قعدہ کرے گا اور التحیات ۔۔عبدہ و رسولہ تک پڑھ کر ک

جس کا کوئی پیر نہیں،اس کا پیر شیطان ہے

تصویر
جس کا کوئی پیر نہیں،اس کا پیر شیطان ہے یہ جملہ آپ نے ضرور سنا ہو گا اس جملے کی وجہ سے لوگ لازما کسی نہ کسی پیر صاحب کے مرید ہو جاتے ہیں،دیہاتوں میں تو جو شخص کسی پیر کا مرید نہ ہو، اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے۔   کچھ لوگ تو یہ بھی سمجھتے ہیں، ایمان صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے، جب آپ کسی پیر صاحب کے مرید ہو جاتے ہیں۔   کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں، انسان متقی اور پرہیزگار صرف اسی صورت میں بن سکتا ہے، جب وہ کسی کامل پیر صاحب کا مرید ہو جاتا ہے۔   اب ہم اس جملے کی تحقیق کرتے ہیں، کیا یہ کسی آیت کا ترجمہ ہے، حدیث شریف ہے یا کسی صحابی کا قول ہے۔۔؟؟ یہ جملہ نہ آیت ہے، نہ حدیث ہے، نہ قولِ صحابی ہے۔ یار لوگ کہتے ہیں یہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے،جن کی وفات 231 ھجری یا 261 ھجری میں ہوئی تھی۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے یہ ان کا بھی قول نہیں ہے بلکہ یہ انکے قول کا بدلہ ہوا ترجمہ ہے   یقینا آپ جاننا چاہتے ہوں گے، ان کا قول کیا تھا۔۔؟؟   ملاحظہ فرمائیں حضرت بایزید بسطامی کا قول یہ تھا: "مَن لم یکن لہ استاد فامامہ الشیطان"   جس کا ترجمہ یہ بنتا ہے جس کا کوئی (دینی) استاد ن

نبی کریم علیہ السلام کا جسم، حلیہ، لباس، عادات، پسند اور ناپسند کیا کیا تھی؟

تصویر
سوال: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم مبارک، حلیہ مبارک، لباس، عادات، پسند یا ناپسند کیا کیا تھیں؟  جواب: اس سوال کے جواب میں ہم کوشش کریں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کردیں تاکہ اس ایک صفحے کو پڑھنے سے ہی معلوم ہو جائے کہ آپ کا جسم مبارک کیسا تھا، حلیہ مبارک کیسا تھا، عادات کیا کیا تھیں، پسند اور ناپسند کیا کیا تھیں، ہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافے بھی کرتے رہیں گے تاکہ یہ صفحہ مفید سے مفیدترین بنتا جائے۔  جسم مبارک  جسم مبارک نہایت نرم و نازک تھا (صحیح بخاری ) جسم مبارک کی خوشبو سب سے اچھی تھی (صحیح بخاری ) بدن تو کیا کبھی کپڑوں پر بھی مکھی نہیں بیٹھی(شرح زرقانی ) آپ کوکبھی مچھر نے نہیں کاٹا (شرح زرقانی) جسم مبارک کا سایہ نہ تھا (شرح زرقانی ) سینہ مبارک کے اوپر کے حصہ سے ناف تک مقدس بالوں کی ایک باریک سی لکیر تھی،کندھوں اور کلائیوں پر قدرے بال تھے (شمائل ترمذی) پیٹ مبارک  آپ کا شکم (یعنی پیٹ مبارک )اور سینہ ہمواریعنی برابر تھا (شمائل ترمذی ) قد و قامت  آپ نہ بہت لمبے تھے، نہ بہت پست قد بلکہ  درمیانی قد والے تھے (سیر ت مصطفی ؐ)

شیطان کے دھوکے کون کون سے ہیں ؟

تصویر
سوال: شیطان کے دھوکے کون کونسے ہیں، شیطان ان کے ذریعے کیسے ایک انسان کو اپنے جال میں پھنساتا ہے؟ جواب: شیطان کے دھوکے بہت سے ہیں، ہر ایک شخص کو وہ اس کی نفسیات کے مطابق پھنساتا ہے، اکثر اوقات خود ان اشخاص کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ شیطانی جال میں پھنس چکے ہیں۔ اہل علم اور شیطانی دھوکے  شیطان علمائے کرام کو علم کے حصول اور اس کی نشر و اشاعت میں لگائی رکھتا ہے لیکن عمل سے دور لے جاتا ہے، ان سے نفل تو نفل سنتیں تک بھی چھوڑوا دیتا ہے، انہیں ذکر اذکار اور تلاوت قرآن سے بہت دور لے جاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ باور کروا دیتا ہے کہ تم دوسروں سے افضل ہو، دوسرے تم سے کم تر ہیں، ایسے طرح انہیں تکبر میں مبتلا کرکے انہیں تباہ و برباد کردیتا ہے۔   اسی طرح انہیں مناظروں اور مباحثوں میں لگا دیتا ہے، وہ مطالعہ کرتے ہیں، علمی نکات نوٹ کرتے ہیں، ہر جگہ علمی گفتگو کرتے ہیں لیکن مقصود اللہ کی رضا نہیں بلکہ اپنے علم کی دھاک بٹھانا ہوتا ہے، اسی طرح شیطان انہیں تصنیف و تالیف بھی کرنے دیتا ہے لیکن مقصد مخالف کو خاموش کروانا اور اس کو بے عزت کرنا ہوتا ہے، اس لیے علماء کو  ایسی تصنیفات پر کوئی ثواب نہیں

surah muzammil with urdu translation

تصویر
 Surah Muzammil tilawat with arabic text  Surah Muzammil in which para سورۃ المزمل قرآن کریم کی تہترویں سورت ہے اور قرآن کریم کے انتیسویں پارے میں ہے، اس میں بیس آیات ہیں اور ان میں دو سو الفاظ ہیں، یہ قرآن کریم کی مکی سورتوں میں سے ہے۔  Surah muzammil read online ہم آپ کے سامنے تصاویر کی صورت میں سورت المزمل کو پیش کررہے ہیں، جسے آپ با آسانی پڑھ سکتے ہیں۔  Surah muzammil with urdu translation  Surah muzammil arabic text  يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2) نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا (3) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (4) إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا (5) إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا (6) إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا (7) وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (8) رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا (9) وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (10) وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُو

مفتی رفیع عثمانی صاحب کا انتقال اور مشہور شخصیات کی تعزیت

تصویر
مفتی رفیع عثمانی صاحب کا انتقال   مفتی رفیع عثمانی صاحب انتقال کر گئے ہیں، ان کی نماز جنازہ بیس نومبر کو نو بجے دارالعلوم کراچی میں ادا کی جائےگی، مفتی صاحب کی وفات کے وقت عمر چھیاسی سال تھی، آپ دارالعلوم کراچی کے صدر اور وفاق المدارس العربیہ کے سرپرست اعلی تھے، آپ مفتی شفیع عثمانی کے بیٹے اور مفتی تقی عثمانی صاحب کے بڑے بھائی تھے، اس موقع پر بہت سے مشہور لوگوں نے اظہار افسوس کیا ہے،ذیل میں ہم ان کے الفاظ کو درج کر رہے ہیں۔ عمران خان صاحب کا اظہار افسردگی  عمران خان صاحب ہمارے ملک کے سابقہ وزیر اعظم ہیں، انہوں نے مفتی رفیع عثمانی صاحب کی وفات پر یہ پیغام دیا ہے: وزیر اعظم پاکستان کا مفتی رفیع عثمانی کی وفات پر اظہار افسوس مفتی رفیع عثمانی صاحب کی وفات پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب نے یہ ٹویٹ کیا ہے: اوریا مقبول جان صاحب کا ٹویٹ  اوریا مقبول جان  صاحب پاکستان کے ایک مشہور کالم نگار ہیں،  مفتی رفیع عثمانی صاحب کی وفات  پر یہ ٹویٹ کیا ہے: مفتی رفیع عثمانی صاحب کا نماز جنازہ کا اعلان  مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنے بھائی کی وفات پر دوسرا ٹویٹ یہ کیا ہے:   مولانا طارق جمیل

فائدہ دینے والی چیزیں

حدیث شریف میں ہے: جب کوئی آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس کے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے صدقہ جاریہ، نیک اولاد جو اس کیلئے دعا کرے اور وہ علم جس سے لوگ نفع اٹھاتے رہیں۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔