جمعہ کی فضیلت کے بارے میں احادیث

تصویر
اس صفحے پر آپ کو جمعہ کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث ملیں گی، آپ انہیں خود پڑھیں اور ثواب کی نیت سے شیئر بھی کردیں سب سے افضل دن  جمعہ  حدیث شریف میں ہے: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَیَّامِکُمْ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیہِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِیہِ قُبِضَ ترجمہ: تمہارے دنوں میں سے زیادہ فضیلت والا جمعہ کا دن ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔  (رواہ ابوداؤ د ،والنسائی ،وابن ماجہ ،والدارمی ) دنوں کا سردار جمعہ  حدیث شریف میں ہے: إِنَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ سَیِّدُ الْأَیَّامِ وَأَعْظَمُہَا عِنْدَ اللَّہِ، وَہُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ یَوْمِ الْأَضْحَی وَیَوْمِ الْفِطْرِ، فِیہِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللَّہُ فِیہِ آدَمَ۔۔۔۔۔۔الخ  ترجمہ: بے شک جمعہ کا دن دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک زیادہ عظمت والا ہے، جمعہ کا دن اللہ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ افضل ہے۔  (رواہ ابن ماجہ) جمعہ اور شب جمعہ وفات کی فضیلت  مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَوْ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ إِلَّا وَقَاہُ اللَّہُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ ترجمہ: جو مسل

مطالعہ کی عادت کیسے بنائیں ؟

مطالعہ کی عادت کیسے بنائیں؟

یہ سوال مجھ سے یوٹیوب پر عبد الباسط بھائی نے پوچھا تھا ،انہوں نے  اس موضوع پر وڈیو بنانےکا مطالبہ کیا تھا لیکن اس وقت میرا وڈیو بنانے کا بالکل بھی موڈ نہیں تھا ،اس لیے میں نے تحریر لکھنا شروع کر دی،یہ تحریر میں انہی کے لیے لکھ رہاہوں، عبد الباسط بھائی!







سب سے پہلےیہ اصول ذہن میں رکھ لیں کہ کسی بھی کام کی عادت بنانے کیلئے ،اس کا آغاز آسان سے آسان طریقے سے کرنا چاہیے تاکہ انسان اس سے اکتاہٹ محسوس نہ کرے،شروع میں آپ کا سارا فوکس اس بات پر ہوناچاہیے کہ بس کسی طرح  آپ روزانہ وہ کام کرلیں۔

اگر آپ ایک سے دو ماہ مستقل ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتےہیں تو یقین مانیےآپ اس کے عادی ہو جائیں گے، پھر اگر آپ کسی دن وہ کام نہیں کریں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے کوئی کام رہ گیا ہے۔

مطالعے کی عادت بنانے کیلئےبھی آپ اسی فارمولے پر عمل کریں،شروع میں آپ کا سارا فوکس بس روزانہ مطالعہ کرنے پر ہونا چاہیے،اس مقصد کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ  آپ روزانہ صرف ایک منٹ پڑھیں لیکن مستقل پڑھیں،کسی دن بھی ناغہ نہ ہونے دیں۔

آپ حیران ہو رہے ہوں گےکہ احسان بھائی روزانہ ایک منٹ میں ہم کیا پڑھیں گے تو جناب ہم اس کا حل بھی آپ کو بتا دیتے ہیں، اس مقصد کیلئے آپ حدیث شریف یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال کی کوئی کتاب خرید لیں، روزانہ ایک منٹ اس کتاب میں سے مطالعہ کریں۔

میرے خیال سے آپ ایک منٹ میں دو سے تین باتیں پڑھ لیں گے،آپ  جو بھی پڑھیں،اس پر چند منٹ بعد  تک غور کرتے رہیں، یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اس میں میرے لیے کیا سبق ہے، یہ بات معاشرے کیلئے کیسے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

اس طرح کرنے سے آپ جو پڑھیں گے وہ آپ کو یاد رہے گا، آپ اسے کسی مناسب موقع پر لوگوں کو سنا بھی سکتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسےفرمایا ہے، اس طرح کرنے سے آپ کو مزید پڑھنے کا جی چاہے گا۔

عبد الباسط بھائی !یہاں ایک دوسرا اصول بھی ذہن میں رکھیں کہ کسی بھی کام کی عادت بنانے کیلئے اس کا وقت مقرر کرنا کافی مفید ہوتا ہے، مثلا سکول، کالج یا آفس جانے کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے،اس وجہ سے انسان جلد ہی اس کا عادی ہو جاتا ہے، اگر آپ مطالعے کیلئے بھی ایک وقت مقرر کر لیں گے تو  یہ بہتر ہوگا۔

میرا مشورہ ہے کہ آپ کوئی ایسا ٹائم مقرر کریں جس میں آپ ذہنی طور پر بالکل مطمئن ہوتے ہیں، صبح کے وقت عموما انسان کا ذہن فریش ہوتا ہے، اگر ممکن ہوتو صبح کا وقت مقرر کر لیں لیکن اگر کسی دن آپ صبح مطالعہ نہ کرسکیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ اس دن مطالعہ ہی نہیں کریں گے بلکہ ہم نے آُ پ کو سب سے پہلے یہی مشورہ دیا ہے کہ آپ نے روزانہ ایک منٹ پڑھنا ہے، صبح وقت نہیں ملا تو کیا ہواجب بھی موقع ملے،اس مطالعے کی قضاء کر لیجیے،لگتا ہے آپ کو قضاء کا مطلب سمجھ نہیں آیا ،عبد الباسط بھائی!جیسے ہم نمازوقت پر نہ پڑھ سکیں تو قضاء پڑھ لیتے ہیں،اسی طرح مطالعہ وقت پر نہیں کرسکے تو اس کی بھی قضاء کر لیں۔

یاد رکھیے، بہت سے لوگ کتب بینی کی عادت بنانا چاہتے ہیں لیکن اکثر لوگ اس میں کامیاب نہیں ہو پائے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ مطالعہ کیسے کرنا ہے، وہ مطالعہ کی اہمیت  کسی سے سن لیتے ہیں اور پھر کسی بھی موضوع پر کوئی کتاب اٹھا کر لے آتے ہیں،آپ نے ایسا نہیں کرنا کیونکہ اگر آپ کوئی مشکل کتاب اٹھا کر لے آئے تو یقین مانیے مطالعے کی عادت بننا تو دور کی بات ہے،وہ کتاب آپ کیلئے دردِ سر بن جائے گی ۔

اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ ابتداء میں آسان سےآسان کتاب کا انتخاب کریں۔

کونسی کتاب آسان ہوتی ہیں ؟

تو جناب وہ کتاب آسان ہوتی ہےجس کی عبارت آسان ہو، جس کو آپ پڑھیں تو آپ کو مطلب فوراسمجھ آجائے، جس کتاب میں چھوٹے چھوٹے جملے ہوں، جس کے پیرے مختصر ہوں،جس میں کوئی مضمون بھی ایک سے ڑیڑھ صفحے سے زیادہ نہ ہو ۔

اس طرح کی کتب عموما سوال جواب والی ہوتی ہیں، اقوال زریں والی ہوتی ہیں،تراشتوں اور افسانچوں والی ہوتی ہیں، لطیفوں اور مختصر کہانیوں والی ہوتی ہیں،اس مقصد کیلئے آپ کالمز کی کتب بھی لے سکتے ہیں ،مثلا جاوید چوہدری صاحب کی کتاب زیرو پوائنٹ کو لے لیجیے،اس میں تقریبا سارے ہی کالم آسان زبان میں لکھے گئے ہیں۔

اگر آپ کوئی کتاب نہیں لینا چاہتے تو احسان اللہ کیانی ڈاٹ کام پر آجائیے ،یہاں مختصر سوال جواب موجود ہیں،انہیں پڑھ لیجیے،یہاں بہت سے اقوال اور احادیث موجود ہیں،آپ انہیں بھی پڑھ سکتے ہیں،اگرچہ یہ میری اپنی ویب سائٹ ہے لیکن میں پھر بھی کہوں گا، مطالعے کی عادت بنانے کیلئے ڈائریکٹ کتاب سے پڑھنا زیادہ مفید ہوتا ہےکیونکہ ویب سائٹ آپ کی توجہ بھٹکا سکتی ہے جبکہ کتاب  اس حوالے سےمحفوظ ہوتی ہے۔

عبد الباسط بھائی !مطالعہ کی عادت بنانے کیلئے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے ساتھ ایک کتاب رکھیں،اگر بڑی کتاب رکھنا ممکن نہ ہوتو پاکٹ سائز کی کتاب لے لیں ،پاکٹ سائز کتاب وہ ہوتی ہے جو آپ آسانی سے اپنی جیب میں رکھ سکتے ہیں، ہمیشہ کتاب ساتھ رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو جب بھی فارغ وقت ملے گا ،آپ اس کتاب میں سے کچھ پڑھ لیں گے، میں جب مدرسے میں پڑھتا تھا تو اپنی جیب میں چھوٹی سی عربی گرائمر کی ایک کتاب رکھتا تھا،جسے فارغ وقت میں پڑھتا رہتا تھا تاکہ اس کے تمام اصول و قواعد مجھےیاد ہو جائیں،یقین مانیے مجھے اس عادت سے بڑا فائدہ ہوا تھا۔

عبد الباسط بھائی !مطالعے کی عادت بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ آپ فضولیات سے بچیں، اپنا وقت گپ شپ یا سوشل میڈیا پر نہ گزاریں، اسی طرح ٹی وی اور انٹرنیٹ سے بھی بچیں،یاد رکھیں، آپ جب بور ہوتے ہیں تو اس وقت بڑی آسانی سے مطالعہ کر سکتے ہیں،اس لیے میرا مشورہ ہے کہ خود کو بور کریں تاکہ مطالعہ کی طرف بڑھ سکیں۔

عبد الباسط بھائی! بات لمبی ہو رہی ہے، میں اس کو اختتام کی طرف لے جاتا ہوں،آخری بات یہ ذہن میں رکھ لیں کہ مطالعے کی عادت بنانے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کو مطالعے کی ضرورت بھی ہو،عموما انسان وہی کام کرتا ہے جن کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔

مثلا

آپ کھانا کھاتے ہیں کیونکہ آپ کو بھوک لگتی ہے، آپ سوتے ہیں کیونکہ آپ کو نیند آتی ہے، مطالعہ بھی آپ تب کریں گے جب آپ کو مطالعے کی ضرورت ہوگی، اس لیے میرا مشورہ ہے کہ  آپ کو جس طرح کے علم کی ضرورت ہے، اسی حوالے سے کتب پڑھیں تو آپ جلد کتب پڑھنے کے عادی بن جائیں گے۔

میں آپ کو اپنی بات بتاتا ہوں،  میں نیک بننا چاہتا ہوں، اس وجہ سے میں اصلاحی کتب پڑھتا ہوں، ہر کتاب پڑھتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے،اسی طرح مجھ سے ویب سائٹ اور یوٹیوب پر  لوگ سوال پوچھتے ہیں، اس لیے مجھے مختلف چیزوں کے متعلق مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔

آپ اگر نیک بننا چاہتے ہیں تو امام غزالی کی احیاء العلوم پڑھیں، ہنسنا اور ہنسانا چاہتے ہیں تو ابن الجوزی کی کتاب الاذکیاء پڑھیں، اسی طرح جس موضوع کی آپ کو ضرورت ہے، اس کے متعلق کتب پڑھیں۔

اگر آپ کوفی الحال کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تو بس ایک کام کریں، اپنے بچوں سے کہہ دیں، بیٹا ! میں تمہیں روزانہ دو کہانیاں سنایا کروں گا، اسی طرح آپ کو روزانہ دو نئی کہانیاں پڑھنی پڑھیں گی کیونکہ اگر آپ نہیں پڑھیں گے تو بچوں کو کیسے سنائیں گے۔

اسی طرح اگر آپ  خود سے لکھنا شروع کر دیں تو بھی آپ کو پڑھنا پڑھے گا کیونکہ پڑھے بغیر لکھنا ممکن نہیں ہے،اس طرح بھی رفتہ رفتہ آپ مطالعے کے عادی بن جائیں گے،میرا خیال ہے پوسٹ لمبی ہو رہی ہے، آپ کو پڑھنے میں مشکل ہو گی ، ٹھیک ہے مجھے اجازت دیجیے، آپ کا بھائی احسان اللہ کیانی

تحریر اچھی لگی تو اسے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کر دیجیےگا۔

یہ بھی ضرور پڑھیے 

کتاب کیسے لکھیں؟

کیا کتاب کے ترجمے پر اعتبار کرنا چاہیے؟


تبصرے

فائدہ دینے والی چیزیں

حدیث شریف میں ہے: جب کوئی آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس کے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے صدقہ جاریہ، نیک اولاد جو اس کیلئے دعا کرے اور وہ علم جس سے لوگ نفع اٹھاتے رہیں۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔