شاہ ولی اللہ کی کتب کے غلط ترجمے || Shah wali ullah books wrong translation in urdu

سوال:

کیا مارکیٹ میں جو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کے تراجم مل رہے ہیں، وہ قابل بھروسہ ہیں؟ 

جواب:

میری رائے  ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ آپ کبھی بھی کسی ترجمے پر بھروسہ نہ کریں ،خصوصا اعتقادی معاملات میں جب بھی کوئی ایسی بات نظر آئے جو بڑے زور سے دوسرے کی شخصیت یا دوسرے کے مکتب فکر کو نقصان پہنچا رہی ہو تو ایسے مواقع پر لازما اصل کتاب کو بھی دیکھ لینا چاہیے، میرے ساتھ شاید سینکڑوں مرتبہ یہ ہوا ہے کہ ترجمہ پڑھا تو کچھ اور تھا اور اصل کتاب دیکھی تو کچھ اور تھا، اس لیے میں تو اس معاملے میں احتیاط کرتا ہوں اور سب کو احتیاط کا ہی مشورہ دیتا ہوں۔ 

میں یہاں دو مثالیں پیش کردیتا ہوں امید ہے، آپ کو بات سمجھنے میں آسانی ہو گی۔


شاہ ولی اللہ کی عقیدے پر کتاب کا غلط ترجمہ 



 یہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی عقیدے پر کتاب ہے جس کا نام ہے، العقیدۃ الحسنۃ، اس کا ترجمہ مفتی خلیل احمد خان قادری برکاتی صاحب نے کیا ہے۔

شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت راشدہ اور اس کے بعد کے دور کے متعلق یہ لکھا تھا

ابوبکر الصدیق امام حق بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضی اللہ تعالی عنھم ثم تمت الخلافۃ و بعدہ ملک عضوض 

جس کا ترجمہ یہ بنتا ہے 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق امام برحق ہیں، پھر حضرت عمر ، پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنھم پھر خلافت (راشدہ ) مکمل ہوئی اور اس کے بعد کاٹنے والی بادشاہت ہو گی ۔


اوپر دیے گئے ترجمے میں دو باتوں کا اضافہ ہے، حضرت ابوبکر صدیق امام مطلق ہیں اور خلافت راشدہ کے بعد اسلامی بادشاہت ہے اور پھر جبر و تشدد کا دور ہے۔ 


شاہ ولی اللہ کی کتاب الفوز الکبیر کا غلط ترجمہ :



یہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب الفوز الکبیر ہے، یہ کتاب علوم قرآن کے موضوع پر ہے، یہ کتاب شاہ صاحب نے فارسی زبان میں لکھی تھی، اس کا ترجمہ پروفیسر مولانا محمد رفیق چوہدری صاحب نے کیا ہے، اس ترجمے میں دو غلطیاں ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ 

  پہلی غلطی یہ ہے کہ شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ اللہ کی وہ صفات کسی دوسرے کیلئے ثابت کرنا شرک ہے جو اللہ تعالی کے ساتھ مختص ہیں جبکہ پروفیسر صاحب نے مطلقا لکھ دیا ہے کہ اللہ کی صفات کو دوسروں کی طرف منسوب کرنا شرک ہے حالانکہ یہ بات بالکل درست نہیں ہے کیونکہ ہم بھی سمیع و بصیر ہیں ، اللہ تعالی بھی سمیع و بصیر ہے، اللہ بھی رؤف و رحیم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی رؤف و رحیم ہیں۔ 

اس ترجمے کی دوسری غلطی یہ ہے کہ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ عقید رکھنا کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور غیب کا علم رکھتا ہے شرک ہے، یہ بات بھی شاہ صاحب نے نہیں لکھی ، شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ وہ علم ذاتی جو حواس کے ذریعے حاصل نہیں کیا گیا ہو، جو عقل کی رہنمائی ، خواب اور الہام کے ذریعے حاصل نہ کیا گیا ہو کسی دوسرے کیلئے ماننا شرک ہے ۔

آپ دیکھیں زمین آسمان کا فرق نہیں ہے۔ 

شاہ صاحب کے اصل فارسی نسخے کا عکس نیچے دیا جا رہا ہے ۔ 


شاہ صاحب کے الفاظ یہ ہیں

شرک آن ست کہ غیر خدا را صفات مختصہ خدا اثبات نماید مثل تصرف در عالم بارادہ کہ تعبیر ازاں بہ کن فیکون می شود یا علم ذاتی از غیر اکتساب بحواس و دلیل عقلی و منام الہام و مانند آں  

جس کا ترجمہ یہ بنتا ہے

شرک  غیر خدا کیلئے اللہ تعالی کے ساتھ مختص صفات کو ثابت کرنا ہے مثلا ارادے سے عالم میں تصرف کرنا جسے کن فیکون سے تعبیر کیا جاتا ہے یا علم ذاتی ماننا جو حواس، عقل کی رہنمائی، خواب  اور الہام کے ذریعے حاصل نہ کیا گیا ہو۔ 



کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.