تنگ دست مقروض کو مہلت دینا کیسا ہے؟

سوال:

تنگ دست کو مہلت دینا کیسا ہے ؟

 

جواب :

حدیث مبارکہ میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے، یعنی اگر کسی شخص نے ہم سے قرض لیا اور پھر وہ اپنی تنگ دستی کی وجہ سے دینے پر قادر نہیں ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسے معاف ہی کر دیں، اگر معاف نہیں کر سکتے تو اسے مہلت دینی چاہیے، اس مہلت دینے کی بڑی فضیلت ہے،جو شخص مہلت دیتا ہے، اسے ہر روز قرض کی رقم کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے، یعنی اگر اس نے ہزار روپے قرض دیا تھا تو اسے روزانہ ہزار روپے صدقہ کرنے کا ثواب ملےگا۔

 


تنگ دست مقروض  کو مہلت دینے کے حوالے سے حدیث 

حدیث شریف میں ہے:

من أنظر معسرًا فله بكل يوم مثله صدقة

 

ترجمہ:

جس نے تنگ دست کو مہلت دی اس لیے ہر دن قرض کی رقم کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔

(یہ حدیث شریف مسند احمد بن حنبل میں ہے)

 

اس لیے جہاں تک ممکن ہو سکے، تنگ دست مقروض کو مہلت دیں، اللہ کریم اس کے بدلے آپ کو بہترین اجر عطا فرمائےگا،اگر آپ قرض معاف کر دیتے ہیں تو یہ اس سے بھی بڑی فضیلت والا عمل ہے۔

 

قرض کو معاف کرنے کے حوالے سے قرآنی آیت 

 

اس حوالے سے قرآن کریم کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیں:

وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

 

ترجمہ:

اور اگر کوئی تنگدست ہو تو اس کو فراخی تک مہلت دینی چاہیے اور یہ کہ (قرض کا روپیہ) معاف ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے ، اگر تم سمجھو ۔

 

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ تم وہ قرض صدقے کے طور پر معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوگا، اللہ تعالی اپنے فرمان کی لاج رکھے گا،وہ آپ کو اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں، دنیا میں اس سے آپ کی پریشانیاں دور ہوں گئی، مصیبتیں ٹلیں گئیں اور آخرت میں اللہ تعالی آپ کو اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائےگا۔

 

اس حوالے سے صحیح مسلم میں حدیث ہے:

Hadees about Qarz in urdu 

من انظر معسرا او وضع عنہ اظلہ اللہ فی ظلہ

ترجمہ:
جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا تو اللہ تعالی اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا ۔

 

مجھے امید ہے آپ ضرور ممکنہ حد تک اپنے قرضوں کو معاف کر دیں گے یا اپنے مقروضوں کو زیادہ سے زیادہ مہلت دیں گے، اس تحریر کے متعلق کمنٹ میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں 

 

از

احسان اللہ کیانی 

 

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.