Baagh e fadak full detail in urdu | باغ فدک کی مکمل معلومات

اس تحریر میں آپ کو باغ فدک کی پوری تفصیل مل جائے گئی،وہ کہاں واقع ہے، اس کی آمدنی کتنی تھی،اس کے حق دار کون کون تھے، حضرت ابوبکر نے وہ سیدہ پاک کو کیوں نہیں دیا، حضرت علی نے اسے اپنے دور میں کیوں اہل بیت کو نہیں دیا، اسی طرح کے درجنوں سوالوں کے جواب آپ کو اس ایک صفحے پر مل جائیں گے


باغ فدك کی مکمل معلومات :


از

احسان اللہ کیانی



باغ فدک کا مقام 

سوال:

باغ فدک کہاں واقع ہے ؟

جواب :

فدک خیبر کے علاقے میں واقع ہے

اس میں کھجور کے باغات اور بہت سے چشمے تھے


فدک مال کی قسم 


سوال :

فدک کون سا مال تھا ؟

جواب :

فدک مال فئے تھا ۔



مال فئے کسے کہتے ہیں؟

سوال :

مال فئے کیا ہوتا ہے ؟

جواب :

مال فئے وہ مال ہوتا ہے

جو جنگ کے بغیر

فقط اسلامی سلطنت کے رعب و دبدبے سے

ہی حاصل ہو جاتا ہے ۔



مال فئے کا حکم 


سوال :

مال فئے کا کیا حکم ہوتا ہے ؟

جواب :

قرآن کریم کی ایک آیت مال فئے کے درج ذیل مصارف بیان کیے گئے ہیں ۔

اللہ اور رسول ،رسول اللہ کے قرابت دار ،یتیم ،محتاج اورمسافر۔

اس کا حکم سورت حشر کی آیت نمبر ۶ سے ۱۰ تک تفصیلا بیان کیا گیا ہے ۔



یعنی اس کے پانچ حصے ہوں گے

ایک حصہ اللہ و رسول کا ہوگا ۔

ایک حصہ یتیموں کا ہوگا ۔

ایک حصہ محتاجوں کا ہوگا ۔

ایک حصہ مسافروں کا ہوگا ۔

ایک حصہ قرابت داروں کا ہوگا

اس میں سارے بنو ہاشم ،بنو عبد المطب ،بنو عباس ،ازواج مطہرات اور تمام اولاد رسول شامل ہے ۔

تو جہ طلب سورت حشر کی اگلی آیات میں

ان لوگوں کو بھی مال فئے کا حصہ دار بتا یا گیا ہے

نادار مہاجرین ،انصار ،تابعین او ر اتباع تابعین اور انکے مابعد آنے والےغریب ۔



مال غنیمت اور مال فئے میں فرق 


سوال:

مال غنیمت اور مال فئے میں کیا فرق ہوتا ہے ؟

جواب :

مال غنیمت جسے بھی دیا جاتا ہے اسے مالک بنا دیا جاتا ہے

جبکہ

مال فئے کسی کی ملکیت نہیں کیا جاتا ہے

بس اسکی آمدنی تقسیم کی جاتی تھی ۔



یاد رکھیں

مال غنیمت میں بھی پانچ حصے ہوتے ہیں

چار حصے فوجیوں کے ہوتے ہیں

کیونکہ انہوں نے جنگ میں لڑائی کی ہوتی ہے

جبکہ

پانچویں حصے کے پھر پانچ حصے ہوتے ہیں

ایک حصہ اللہ اور رسول کیلئے ہوتا ہے

ایک حصہ قرابت داروں کیلئے ہوتا ہے

ایک حصہ یتیموں کیلئےہوتا ہے

ایک حصہ مسکینو ں کیلئے ہوتا ہے

ایک حصہ مسافروں کیلئے ہوتا ہے ۔



وراثت نبی 


سوال :

کیا فدک نبی کریم ﷺ کی وارثت تھا ؟

جواب :

اس میں اختلاف ہے

شیعہ کہتے ہیں میراث تھا

اہلسنت کہتے ہیں میراث نہیں تھا ۔



باغ فدک پر اہلسنت کی دلیل 


سوال :

اہلسنت کے پاس کیا دلیل ہے کہ

یہ میراث نہیں تھا ؟

جواب :

اہلسنت کی دلیل صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے

لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا فَھُوَصَدَقَۃٌ

ترجمہ:

ہم (انبیاء )کا کوئی وارث نہیں ہوتا

ہم نے جوکچھ مال وغیرہ چھوڑا

وہ مسلمانوں پر صدقہ ہے۔



(صحیح بخاری ،کتاب فضائل اصحاب النبی )

(صحیح بخاری ،کتاب الفرائض ،باب قول النبی لانورث )


باغ فدک پر شیعہ کی دلیل 


سوال :

اہلسنت کی دلیل حدیث ہے

جبکہ

شیعہ کے پاس دلیل قرآن کریم سے ہے

اس پر آپ کیا کہیں گے ؟



جواب :

ہم شیعہ کے دلائل جانتے ہیں



وہ یہ آیت پیش کرتے ہیں ۔

{وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ}

ترجمہ :

حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے ۔

حالانکہ

اس سے مراد علم اور نبوت کی وراثت ہے ۔



اسی لیے

یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے

اور

باقی اولاد اور ازواج کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔



دوسری آیت شیعہ یہ پیش کرتے ہیں

{يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آَلِ يَعْقُوبَ}

حضرت زکر یا علیہ السلام نے جب اللہ تعالی سے اولاد کی دعا مانگی

تو کہا مجھے ایسا بیٹا دے

جو میرا وارث بنے اور آل یعقوب کا وارث بنے ۔



یہاں قابل توجہ بات یہ ہے

حضرت زکریا کوئی مال دار آدمی نہیں تھے

جن کو جائیدا د کی فکر ہو

بلکہ

وہ معمولی سے نجار تھے ۔

اور

ان کے بیٹے حضرت یحیی تو دنیا کے مال سے انتہائی

بے رغبت انسان تھے ۔



غور کریں حضرت زکر علیہ السلام

آل یعقوب کے وارث کی دعا مانگ رہے ہیں ۔



کہنے کا مقصد یہ ہے کہ

شیعوں کے حساب سے

آل یعقوب کی جائیداد کاوارث

حضرت زکریا کے بیٹے حضرت یحیی کو بھی بننا چاہیے ۔



حالانکہ

ان انبیاء کے زمانوں میں کافی فاصلہ ہے ۔



اب میں قرآن کریم سے ہی

اس بات کی بھی دلیل دے دیتے ہیں

کہ وراثت علم اورنبوت کی بھی ہوتی ہے

آپ قرآن کریم کی اس آیت کو بغور ملاحظہ فرمائیں

ثمَّ أَوْرَثنَا الْكتاب الَّذين اصْطَفَيْنَا

پھر ہم نے جن کو چنا ان کو کتاب کا وارث بنایا







سوال :

کیا اہلسنت کے پاس فقط ایک حدیث ہی دلیل ہے ؟



جواب :

نہیں

بلکہ

بہت سی احادیث ہیں



مثلا

ایک حدیث میں ہے

لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ

انما یا کل ال محمد من ھذا المال

لیس لھم ان یزیدوا علی الماکل

ترجمہ :

ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم نے چھوڑا

وہ صدقہ ہے

محمد ﷺ کے گھر والے تو اس مال میں سے بس کھا لیتے ہیں۔

کھانے سے زیادہ لینے کا انہیں حق نہیں ہے۔

(بخاری ،مسلم، مسند احمد)





اسی طرح ایک حدیث میں ہے :

لا تقتسم ورثتی دیناراً ولا درھم

ماترکت بعد نفقۃ نسائی ومؤنۃ عاملی

فھو صدقۃ

میرے وارث کوئی دینار و درہم آپس میں تقسیم نہ کریں۔

میں نے جو کچھ چھوڑا ہے

میری بیویوں کا نفقہ اور میرے عامل کا حق الخدمت

ادا کرنے کے بعد وہ سب صدقہ ہے۔

(بخاری، مسلم، موطا، مسند احمد)



فدک کی حدیث فقط حضرت ابوبکر سے مروی ہے


سوال :

کیا یہ بات درست ہے کہ

یہ حدیث صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہی

مروی ہے ؟



جواب:

یہ بات درست نہیں ہے

بلکہ

علامہ ذہبی فرماتے ہیں

یہ جھوٹ ہے کیونکہ

اس مضمون کی احادیث

حضرت ابوبکر ،حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ،

حضرت سعید ، حضرت عبد الرحمن بن عوف ،حضرت عباس ، حضرت ابوھریرہ

اور ازواج مطہرات سے مروی ہیں

(المنتقی فی منھاج الاعتدال )



مال فئے اور رسول اللہ 

سوال:

نبی کریم ﷺ مال فئے کو کیسے خرچ کرتے تھے ؟

جواب :

آپ یہ مال خود پر بھی خرچ کرتے تھے

اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ کرتے تھے ، اس سے مہمانوں کی مہمان نوازی بھی کرتےتھے

یتیموں اور غریبوں کی امداد بھی کرتے تھے اور جہاد کیلئے تلواریں اور گھوڑے بھی خریدتے تھے ۔

(سنن ابوداؤد :کتاب الخراج والفئی )



باغ فدک اور خلفاء راشدین 

سوال :

خلفاء راشدین اس آمدنی کو کہاں خرچ کرتے تھے ؟

جواب :

جناب صدیق اورتمام خلفاء اربعہ اسی طرح مال خرچ کرتے تھے

جیسے حضور نبی کریم ﷺ خرچ کیا کرتے تھے ۔

(سنن ابوداؤد،کتاب الخراج والفئی )


سیدہ فاطمہ کا باغ فدک کا مطالبہ 

سوال :

کیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے جناب صدیق سے

باغ فدک طلب کیا تھا ؟

جواب :

جی ہاں

آپ نے طلب کیا تھا

تو

حضرت صدیق اکبر نے جوابا کہا

آپ کے والد صاحب نے فرمایا ہے

ہم انبیا ء کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو چھوڑ جاتے ہیں

وہ مسلمانوں کیلئے صدقہ ہے ۔

اس پھر حضرت فاطمہ چلی گئی تھیں ۔

(صحیح بخاری )



سیدہ فاطمہ کا حضرت ابوبکر سے کلام نہ کرنا 


سوال :

کیا اس کے بعد سیدہ فاطمہ نے مرتے دم تک جناب صدیق سے کلام نہیں کیا تھا ؟

جواب :

بخاری شریف کی اایک حدیث سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ ہوگیا ہے

حالانکہ اسی کی شرح میں ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے

عن معمر(فلمہ تکلمہ فی ذالک المال}

حضرت معمر سے مروی ہے کہ

مرتے دم تک پھر انہوں نے مال فئے پر سیدنا صدیق سے کلام نہیں کیا ۔



فهجرته فاطمة فلم تکلمه حتی ماتت

ترجمہ :

حضرت فاطمہ نے انہیں چھوڑ دیا اور مرتے دم تک کلام نہیں کیا

(صحیح بخاری )


سیدہ فاطمہ کی ناراضگی 

سوال :

کیا یہ کہا جا سکتا ہے

سیدہ فاطمہ نے ناراضگی کی وجہ سے کلام نہیں کیا ؟

جواب :

یہ نہیں کہا جاسکتا

کیونکہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ

ترک تعلق رکھنا اسلام میں جائز نہیں ہے ۔

(اس مضمون کی حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے )



سوال :

کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے بعد

ان سےملے تھے ؟

جواب:

جی ہاں

آپ ملے تھے

امام بیہقی نے سنن کبری میں اس روایت کو نقل کیا ہے

امامرضت فاطمۃ رضی اللہ عنہا

اتاھا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ فاستاذن علیھا

فقال علی : یافاطمۃ ؛ ھذا ابوبکر یستاذن علیک

فقالت : اتحب ان اذن لہ قال نعم

فاذنت لہ فدخل علیھا یترضاھا

ترجمہ:-

جب فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے

اور آنے کی اجازت طلب کی تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

فاطمہ ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے ہیں

آپ سے ملنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔

حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا

کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں ان سے ملوں ؟

تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جی ہاں

پس وہ تشریف لائے اور ان کو راضی کیا ۔

حتی کہ وہ راضی ہوگئی ۔

امام بیہقی کہتے ہیں یہ سند صحیح سے مروی ہے۔



توجہ طلب :

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے

کہ جناب صدیق نے سیدہ کو راضی کر لیا تھا ۔


مال کی لالچ اور جناب صدیق 

سوال :

کیا ایسا ممکن ہے کہ

جناب صدیق نے مال کی لالچ کی وجہ سے

ایسا کیا ہو ؟



جواب :

ایسا بالکل ممکن نہیں ہے

کیونکہ

یہ فیصلہ کر کے انہوں نے تواپنی بیٹی

سیدہ عائشہ کو

بھی اس مال سے محروم کر دیا تھا ۔

پھر تاریخ شاہد ہے

کہ جناب صدیق نے تو کسی یہودی اور نصرانی

کا مال بھی نہیں روکا تو وہ سیدہ کا مال کیسے روک سکتے ہیں ۔


سیدہ فاطمہ کے مطالبے کو رد کرنا 

سوال :

کیا سیدہ کے مطالبے کو رد کرنا انکی بے ادبی و توہین نہیں ہے ؟

جواب :

ہر گز نہیں ہے

کیونکہ

انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بھی

غلام کا مطالبہ کیا تھا

لیکن

حضور نے انہیں غلام عطا نہیں کیے تھے

بلکہ

تسبیح فاطمہ سکھا دی تھی۔





سوال:

کیا ایسا کہا جاسکتا ہے

کہ جناب صدیق نے معاذ اللہ ویسے ہی حدیث بنا لی تھی؟

جواب :

اگر اس قسم کا ذرا بھی شک ہوتا

تو

سیدہ کائنات ضرور یہ کہہ دیتی

کہ جناب صدیق نبی کریم ﷺ سے ایسی

تو کوئی حدیث منقول نہیں ہے ۔

لیکن

کسی ایک روایت میں بھی نہیں ملتا

کہ انہوں نے یا نبی کریم ﷺ کے قرابت داروں میں

سے کسی نے بھی ایسا کچھ کہا ہو ۔

سوال :

کیا سیدہ اکیلی ہی نبی کریم ﷺ کے ترکے کی وارث تھیں ؟

جواب :

نہیں ایسا نہیں تھا

بلکہ

تین طرح کے لوگ حقدار تھے

سیدہ بطور بیٹی

ازواج مطہرات بطور بیویاں

جناب عباس بطور چچا



حضور ﷺ کا ترکہ 


سوال :

نبی کریم ﷺ نے ترکے میں کیا کیا چھوڑا تھا ؟

جواب :

آپ کے ترکے میں تین چیزیں تھیں ؟

سواری کا ایک جانور

چند ہتھیار

باغ فدک اور خیبر کی کچھ زمینیں۔


انبیاء کی میراث نہ ہونے کا سبب 

سوال :

انبیاء کرام کی میراث کیوں نہیں ہوتی ؟

جواب :

اسکی بہت سی حکمتیں ہیں

علامہ عینی لکھتے ہیں

ایک وجہ تو یہ ہے کہ کوئی یہ بدگمانی نہ کرسکے

کہ انہوں نے دعوی نبوت اور اشاعت دین کا کام

معاذ اللہ صرف حصول مال کیلئے کیا تھا ۔

جسے آپ وہ اپنی نسلوں کے لیے چھوڑے جا رہے ہیں

توجہ طلب :

بلکہ نبی کریم ﷺ تو خود اپنی آل کیلئے دعا مانگ کر جارہے ہیں

اللھم اجعل رزق آل محمد قوتا وفی روایۃ کفافا

ترجمہ:

اے اللہ آل محمد کا رزق صرف بقدر کفایت کر دے ۔



سوال:

انبیاء کرام کے وصال کے بعد ان کا مال

سب مسلمانوں کیلئے صدقہ کیوں ہوجاتا ہے ؟

جواب :

عمدۃ القاری میں ہے

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ

انبیاء کرام اپنی تمام امت کے لیے بمثل باپ ہوتے ہیں

اور انکی امت بمنزلہ اولاد ہوتی ہے

اسی لیے وہ اپنا تمام مال اپنی تمام اولاد کیلئے صدقہ کر جاتے ہیں ۔


انبیاء کی وارثت علم ہے

سوال :

انبیاء کرام کی میراث علم ہوتی ہے

کیا اسکی بھی کوئی دلیل ہے ؟

جواب :

جی ہاں

حدیث شریف میں ہے

إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ

ترجمہ:

انبیاء کرام درہم ودینارکا وارث نہیں بناتے

بلکہ وہ توعلم کا وارث بناتے ہیں

(سنن ترمذی ،کتاب العلم)



اسی لیے حدیث میں یہ بھی ہے کہ

علماءانبیائے کرام کے وارث ہیں

(سنن ابن ماجہ ،کتاب السنۃ )


حضرت علی اور باغ فدک 

سوال :

کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے

تو انہوں نے اس ترکے کو بطور وراثت تقسیم کر دیا تھا ؟

جواب :

امام ذہبی فرماتے ہیں

لما ولي عَليّ الْخلَافَة لم يقسم تَرِكَة النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم

وَلَا غَيرهَا عَن مصرفها

جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے بھی

ترکہ نبی کو نہ تقسیم کیا

نہ ہی اس کے مصرف کو تبدیل کیا ۔

(المنتقی من منھاج الاعتدال )


باغ فدک اور شیعہ کتب

سوال :

کیا یہ بات کسی شیعہ کتاب میں بھی لکھی ہے ؟

جواب :

جی ہاں

شیخ صدوق کی علل الشرائع میں یہ بات درج ہے کہ

حضرت علی اور حضرت حسن نے بھی اپنے زمانہ حکومت میں یہ مال

اولاد فاطمہ کی ملکیت نہیں کیا ۔



باغ فدک کی آمدن 


سوال:

فدک کی آمدنی کتنی تھی ؟

جواب :

سات ہجری میں سالانہ آمدن چوبیس ہزار دینار تھی

ننانوے ہجری میں سالانہ چالیس ہزار دینارتھی


باغ فدک اور ہبہ 

سوال :

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ

سیدہ نے کہا تھا کہ یہ مال میرے والد نے مجھے ہبہ کر دیا تھا

آپ اس پر کیا کہیں گے ؟

جواب :

جی ہاں

اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ

جناب صدیق نے کہا تھا

آپ گواہ پیش کریں

تووہ مکمل شرعی گواہی نہیں پیش کرسکی تھیں ۔

حدود و قصاص کے حوالے

گواہی کا شرعی نصاب ہے

دو آدمی یا ایک مرد اور دو عورتیں ۔



سیدہ کی کم گواہی اس لیے قبول نہیں کی گئی

کیونکہ

یہ معاملہ فقط ان کی ذات سے متعلق نہیں تھا

اگر یہ وراثت تھی

تونبی کریم ﷺ کے دیگر رشتہ دار بھی اس میں شریک تھے

اگر یہ مال صدقہ تھا

تو تمام امت اس کی حصہ دار تھی ۔



پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ

شوہر کی گواہی بیوی کے حق میں قابل قبول نہیں ہوتی



اس طرح ایک مسئلہ یہ بھی ہے

جس کے متعلق امام ذہبی لکھتے ہیں ۔

کہ جب کوئی شخص زبانی کوئی چیز ہبہ اور وہ جس کو ہبہ کیا اسکے قبضے میں نہ دینے سے

پہلے وفات پاجائے تو جمہور علماء کے نزدیک یہ ہبہ باطل ہو جاتا ہے ۔



related tags for this post:
bagh e fadak,bagh e fadak location,bagh e fadak area,bagh e fadak in sunni books,bagh e fadak in quran,bagh e fadak hadith,bagh e fadak meaning in urdu,bagh e fidak bukhari shareef in urdu,bagh e fidak shia books in urdu,bagh e fidak history in urdu,bagh e fidak history,bagh e fadak ki haqeeqat,bagh e fidak issue,bagh e fidak ka waqia,bagh e fadak ka muqadma,bagh e fidak video,

تبصرے