--> اعلی حضرت بریلوی اور ان کا فتاوی رضویہ

اعلی حضرت بریلوی اور ان کا فتاوی رضویہ

فتاوی رضویہ کا تعارف

فتاوی رضویہ مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاوی کا مجموعہ ہے، یہ معلومات کا خزانہ ہے، میں نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے، میں نے اس کا اچھا خاصا مطالعہ کیا ہے، دوران مطالعہ میں نے اس سے بہت کچھ لکھا بھی ہے، جسے آج آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں، اس میں چھوٹے چھوٹے مسائل کے جواب ہیں، قیمتی اور انمول فقہی اصول ہیں، احادیث کا فہم ہے، مفسرین اور متکلمین کی آراء کا نچوڑ ہے، اس لیے اسے معمولی نہ سمجھیں، مولانا احمد رضا خان بریلوی اور ان کے فتاوی سے متعلق مزید بھی جو معلومات ہوگی، وہ اسی ہی صفحے پر شامل کی جائیں، اس لیے ممکن ہے کہ مستقبل میں آپ کو یہاں اس سے بھی زیادہ معلومات مل جائیں۔ 

امام احمد رضا خان بریلوی کا تعارف

پیدائش :

آپ 14 جون 1856 کو بریلی میں پیدا ہوئے ۔

تعلیم :

آپ نے تمام مروجہ علوم اپنے والد سے حاصل کیے ۔تیرہ سال اور دس ماہ کی عمر میں مروجہ دینی علوم کی تحصیل سے فارغ ہوئے ۔

 قرآن و حدیث پر نظر:
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ فقط ایک شاعر اور چند فقہی کتب کے جاننے والے تھے، یہ بات بالکل غلط ہے، قرآن و حدیث پر ان کی بہت گہری نظر تھی، مثال کے طور پر آپ نے حرمت سجدہ تحیت پر جب لکھا تو چالیس احادیث کو بطور ثبوت پیش کیا، اسی طرح آپ نے حضور علیہ السلام کے دافع بلاء ہونے پر ایک رسالہ لکھا تو اس کے پہلے باب میں متعدد آیات کے ساتھ تقریبا ساٹھ احادیث کو ثبوت کے طور پر پیش کیا، اسی رسالے کے دوسرے باب میں چوالیس آیات اور دو سو اٹھارہ احادیث کو ثبوت کے طور پر پیش کیا، اسی طرح جب آپ نے جواز استمداد پر لکھا تو تینتیس احادیث کو ثبوت کے طور پر پیش کیا۔

زبان کی تلخی اور تکفیر:
اعلی حضرت بریلوی کی تمام تر خوبیوں کے باجود ہمیں ان کے چند باتوں سے اختلاف بھی ہے، جن میں دو سرفہرست ہیں، زبان کی سختی اور مسلمانوں کی تکفیر۔ 

فتاوی رضویہ سے اقتباسات

ذیل میں ہم فتاوی رضویہ کی مختلف جلدوں سے چند اقتباسات پیش کررہے ہیں، جنہیں ہم نے اپنے مطالعے کے دوران لکھا تھا۔ 

انبیاء کرام اوراحتلام

حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورتمام انبیاء کرام احتلام سے پاک و منزہ ہیں۔

حدیث میں ہے

(ما احتلم نبی قط،وانما الاحتلام من الشیطان)

 (کبھی کسی نبی کو احتلام نہیں ہو ا،احتلام تو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے )

(اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ،رقم الحدیث :١١٥٦٤،عن ابن عباس )

(تفصیل کیلئے دیکھیے ،فتاوی رضویہ ،ج١٥،ص١٥٥)

عورتوں کی نعت خوانی

عورت کا خوش الحانی سے اتنی بلند آوازمیں پڑھنا ،کہ نامحرم تک اس کی آواز جائے حرام ہے

نوازل میں ہے:

(نغمۃ العورۃ عورۃ)

 عورت کاخوش آوازی سے کچھ پڑھنا بھی قابل ستر ہے۔

رد المحتار میں ہے : 

عورت بلند آواز سے تلبیہ نے پڑھے کیونکہ اس کی آواز بھی قابل ِستر ہے ،اسی لیے عورت کو اذان دینے کی بھی اجازت نہیں ۔
(تفصیل کیلئے دیکھیے ،فتاوی رضویہ ،ج٢٢،ص٢٤٢)


اولاد کے حقوق آپ نے ساٹھ احادیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں، آپ رضا فاؤنڈیش والے فتاوی رضویہ کے درج ذیل صفحات پر اسے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔(فتاوی رضویہ ،ج ٢٤،ص٤٥١)

 تمام دنیا کے مسلمانوں کی مدد

دل سے تمام عالم کے مسلمانوں کی خیر خواہی مطلقا فرض عین ہے ،اورحاجت کے وقت ہر مسلمان کو دعا سے امدادا ور اعانت کرنی چاہیے ،کیونکہ اس سے کوئی عاجز نہیں ،اور مال اورعملی طور پر اعانت فرض کفایہ ہے ،اور ہر فرض بقد رقدرت ہوتا ہے ،اور ہر حکم استطاعت کی شرط کے ساتھ ہوتا ہے ،جیسے مفلس پر اعانت مال نہیں ہوتی ،بے دست و پا پرعملی طور پراعانت نہیں ہوتی ۔(فتاوی رضویہ ،ج١٤،ص ١٧٤،خلاصہ)

برطانوی سلطنت میں امام احمد رضا بریلوی کا فتوی

رسول اللہ ؐ نے نصرانی کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے (مصنف ابن ابی شیبہ ،ابو داؤ د،ترمذی ،مسنداحمد)اگر ظاہری نجاست نہ ہوتوکافر کا جھوٹا ناپاک نہیں ،مگر لازمی نہیں کہ جو چیز ناپاک نہ ہو ،وہ طیب بھی ہو ،جیسے ناک کی رینٹھ ناپاک نہیں ،مگر کون عقلمند اسے اپنی زبان سے لگانا پسند کرے گا ،بحمد اللہ کافر کے جھوٹے سے بھی مسلمانوںکو ایسی ہی نفرت ہے ،یہ نفرت دورکرنا ،مسلمانوں کی نظروں میں کافروں کی برائی کو ختم کرنا ہے ،یا کم کرنا ،علماء نے تصریح فرمائی ہے ،مفتی کو وہی فتوی دینا چاہیے ،جو عوام کیلئے مفید ہو،عوام کا فائدہ اسی میں ہے کہ کافروں کی نفرت ان کے دلوں میں باقی رہے ،دلائل شرعیہ سے ثابت ہےکہ کافر کے جھوٹے سے بچنا ضروری ہے ،یہاں نصاری کا حکم ہنودسے سخت تر ہے ،کیونکہ یہاں ان کی سلطنت ہے ،نفرت میں کمی سے تبدیل مذہب یا کم ازکم ضعف ایمان کا اندیشہ ہے ،یہاں اسلام کے صدر اول پر قیاس کرنا جہالت ہے ،کیونکہ اس وقت وہ کمزور اور ہمارے ماتحت تھے ،انھیں اسلام کی طرف آنے کی دعوت دینا مقصود تھی ،اب تو معاملہ ہی الٹ ہوگیا ہے،میرے نزدیک یہی ہے ،اور میں نے اس پر کئی مرتبہ فتوی دیا ہے ،اللہ میرا رب ہے، اسی پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ ہے ۔
(فتاوی رضویہ، ،ج٢،ص٣١٤تا٣٢٠،مختصرا)

 کافر یا بدمذہب کو بوقت ضرورت ایسے سلام کریں

کافر یا مبتدع (بد عقیدہ )یا فاسق (مرتکب کبیرہ)کو سلام کرنے کی صحیح ضرورت پیش آئے ،تو لفظ سلام نہ کہے ،بلکہ ہاتھ اٹھانے پر قناعت کرے ،یا اور کوئی لفظ کہے ،تاکہ نہ سلام ہو نہ تعظیم ،اگر مجبور ہو تو آداب کہہ دے ۔
(فتاوی رضویہ ،ج٢٢،ص ٣٧٨،مفہوم کلام )

نماز کے بعد بلند آواز سے کلمہ پڑھنا

اگر وہاں کوئی شخص نما ز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ہے تو اتنی آواز بلند نہ ہو کہ اسے تشویش وایذاہو۔
(فتاوی افریقہ ،مسئلہ نمبر ٤٣،ملخصا)

کافر اور اللہ کی رضا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں،کافر مشرک کا کوئی عمل اﷲ کے لیے نہیں ہوسکتا
فان الکفر ھو الجہل باﷲ فاذا جہلہ فکیف یعمل لہ
(کیونکہ کفرتو اللہ سے جاہل ہونے کا نام ہے ،جب وہ اللہ تعالی کو نہیں جانتا تو کیسے اس کے لیے عمل کر سکتا ہے)
(فتاوی رضویہ ،جلد٢١،ص١٢٠،ملخصا)

قیامت کی ایک خطرناک نشانی 

(سوال :۔۔۔۔۔۔سنا ہے آپ نے فرمایا ہے رمضان کی پندرھویں شب کو ایک دھماکے کی آواز آئے گی؟)
آئے گی مگر یہ نہیں کہا تھا کہ اسی رمضان آئے گی۔ جب آئے گی تو وہ رمضان ہی ہوگا جس کی پندرھویں جمعہ کو ہوگی۔ اس سال زلزلے کثرت سے ہوں گے۔ اَولے کثرت سے پڑیں گے۔ پندرھویں شبِ رمضان شب جمعہ ایک دھماکہ ہوگا، صبح کی نماز کے بعد ایک چنگھاڑ سنائی دے گی۔ حدیث میں آیا کہ اس تاریخ کو نمازِ صبح پڑھ کر ،گھروں کے اندر داخل ہوجاؤ اور دروازے بند کرلو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان بند کرلو۔ پھرآواز سنو تو فوراً اللہ عزوجل کے لیے سجدہ میں گر و اورکہو ''سبحٰن القدوس سبحٰن القدوس ربنا القدوس'' (قدوس کے لیے پاکی ہے قدوس کے لیے پاکی ہے اور ہمارا پروردگار قدوس ہے۔ت) جو ایسا کرے گا نجات پائے گا جو نہ کرے گا ہلاک ہوگا۔
یہ حدیث کا مضمون ہے۔ اس میں یہ تعیین نہیں کہ کس سال میں ایسا ہوگا۔ بہت رمضان گزر گئے جن کی پہلی جمعہ کو تھی اور ان شاء اللہ تعالی آئندہ بھی گزریں گے۔ ہاں جو خبر دی ہے، ہونے والی ضرور ہے جب کبھی ہو۔ اللہ تعالی سے خوف و امید ہر وقت رکھنا چاہیے۔
(فتاوی رضویہ ،جلد ٢٧،ص ٤٢،ملخصا)

آدم کی صورت والی حدیث کی وضاحت

(سوال :۔۔۔۔۔۔انّ اﷲ خلق آدم علی صورتہ ( بے شک اللہ تعالی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ) حضور سے یہ عرض ہے یہ حدیث ہے یا قول ہے؟)
الجواب : یہ حدیث صحیح ہے اور اضافت شرف کے لیے ہے، جیسے بیتی ( میرا گھر ) اور ناقۃ اﷲ ( اللہ کی اونٹنی)
یا ضمیر آدم کی طرف ہے یعنی آدم کو ان کی کامل صورت پر بنایا تھا ۔ طولہ ستّون ذراعا(بخاری ،مسلم) ان کا قد (پیدائش کے وقت ہی )ساٹھ ہاتھ تھا ، بخلاف اولادِ آدم (کیونکہ حضرت آدم کی اولاد کا ) بچہ چھوٹا پیدا ہوتا ،پھر بڑھ کر اپنے کامل قد (پانچ یا چھ فٹ )کو پہنچتا ہے۔ واللہ تعالی اعلم
(فتاوی رضویہ ،ج٢٧،ص٤٢،ملخصا)

بدھ کے دن کام کا آغاز کرنا

(سوال :کیا وجہ ہے کہ لوگ(علماء کرام ) بد ھ کے دن کتاب شروع کرواتے ہیں ؟)
کیونکہ حدیث میں نبی کریم فرماتے ہیں: مامن شیء بدا یوم الاربعاء الاتم جو چیز بدھ کے دن شروع کی جاتی ہے وہ اتمام کو پہنچتی ہے۔(کشف الخفائ)
(فتاوی رضویہ ،ج٢٧،ص٤٤،ملخصا)

حدیث بالمعنی روایت کرنا 

(سوا ل :کیا صحابہ کرام کو حدیث بالمعنی روایت کرنے کی اجازت تھی؟ )
روایت حدیث کے دونوں طریقے ہیں،روایت باللفظ اور روایت بالمعنی
خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحدیث بالمعنی کی اجازت فرمائی ہے
قرآن عظیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں نقل بالمعنی جائز نہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢٧،ص٤٩،ملخصا)

فتاوی رضویہ کی زبان انتہائی مشکل کیوں ہے

اعلی حضرت کے ستر فیصد فتاوی ،علماء کرام کے سوالات کے جوابات ہیں،اسی لیے اس کی زبان مشکل ہے۔ از احسان اللہ کیانی 

سلطنت عثمانیہ کی مدد 

کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف تھے، وہ لوگ یہ فتوی ملاحظہ فرمائیں:
امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں :سلطنت عثمانیہ ،نہ صرف عثمانیہ ،بلکہ ہر سلطنت ِاسلام ،نہ صرف سلطنت ،بلکہ ہر جماعتِ اسلام ،نہ صرف ہر جماعت ،بلکہ ہر فرد ِ اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
(فتاوی رضویہ ،ج١٤،ص١٧٤،ملخصا)

کافر سے دوستی

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
کافر سے دوستی حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٢٥)
٭٭٭٭

حرام سے محفل نعت

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
جو چیز بارگاہ الہی سے مردود ہو ،وہ دربار ِ رسول ؐ میں بھی مقبول نہیں ہوسکتی
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٠٨)
٭٭٭٭

اللہ کو عاشق کہنا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
معنی عشق اللہ کے حق میں محال قطعی ہے (اللہ کو عاشق کہنا جائز نہیں)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١١٤)
٭٭٭٭

مدینہ کو یثرب کہنا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
مدینہ طیبہ کو یثرب کہنا ممنوع و گناہ ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١١٦)

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
حدیث میں ہے :جس نے ایک بار یثرب کہا وہ دس بار مدینہ کہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١١٩)
٭٭٭٭

تقدیر

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
تقدیر الہی میں جو لکھا ہے ضرور ہوگا ،اور جو نہیں لکھا ہے ،ہرگز نہیں ہوگا
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١١١)
٭٭٭٭

یقین اور شک

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
یقین شک سے زائل نہیں ہوسکتا
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٢٦)
٭٭٭٭

گالی دینا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرعی گالی دینا حرام قطعی ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٢٧)
٭٭٭٭

شعر اور شریعت

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
شرع مطہر شعر و غیر شعر سب پر حجت ہے
(شریعت کے مقابلے میں شعر کی کوئی وقعت نہیں)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١١٨)
٭٭٭٭

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
کافرو مشرک کا کوئی عمل للہ (یعنی اللہ کے لیے )نہیں ہوسکتا
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٢٠)
٭٭٭٭

کفار کے فسٹیول 

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
کافروں کے میلے میں مسلمانوں کوشریک ہونا منع ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٢٠)
٭٭٭٭

سچی توبہ

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
سچی توبہ کے بعد گناہ باقی نہیں رہتا
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٢١)
٭٭٭٭

شرک اورکفر

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
ہر شرک کفر ہے اور کفرمُزیلِ اسلام (اسلام کو زائل کرنے والا )ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٣١)
٭٭٭٭
کسی مسلمان پر شرک کی تہمت لگانا اسے کافر کہنا ہی ہے

بد گمانی

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
بدگمانی سب سے سخت تر جھوٹ اور اشد حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٣٣)
٭٭٭٭

بچوں کے سر پر چوٹی رکھنا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
مرد کے سرپر چوٹی رکھنا ویسے ہی حرام ہے(ص١٣٤)
کسی کے نام کی چوٹی رسوم کفار وہنود سے ہے (ص ١٣٥)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٣٥)
٭٭٭٭

ڈوری بدھی اور کلاوہ

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
ڈوری ،بدھی کلاوہ بھی محض جہالت و بے اصل ہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٣٥)
٭٭٭٭

قلم کی حفاظت

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
ہاتھ کی آفتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لکھا جائے ،جس کا بولنا حرام ہے
(گالی گلوچ ،فحش کلامی وغیرہ )
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٣٨)
٭٭٭٭
امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
فان القلم احدی اللسانین قلم بھی انسان کی ایک زبان ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٣٨)
٭٭٭٭

علانیہ گناہ کی توبہ

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
گناہ علانیہ کے لیے شرع نے توبہ علانیہ کا حکم دیا ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٤٢)
٭٭٭٭

مرض کا علاج

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
مرض کا علاج ضد سے ہوتا ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٤٥)
٭٭٭٭
وضاحت :علانیہ گناہ سرکشی و بے حیائی کرواتی ہے ،جب علانیہ توبہ کرے گا ،مجمع عام میں ندامت و پشیمانی کا اظہار کرے گا ،تو طبعیت میں انکساری پیدا ہوگی ،اورنفس کی سرکشی ختم ہو گی ۔

سلام و کلام سے منع کرنا

قبیلہ بنی تمیم کا صبیغ بن عسل ــنامی شخص قرآن کے متشابھات کے بارے میں سوال کرتا تھا ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے سخت سزادینے کے بعد ،یمن میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ،اور کہا کہ کوئی مسلمان اس سے نہ ملے، نہ ہی اسے سلام کرے ،وہ جہاں سے گزرتا ،سو مسلمان بھی ہوتے تو وہ ادھر ادھر ہو جاتے ،اس حکم سے اسے شدید تکلیف پہنچی ،مگر اسے احساس ہو گیا کہ وہ غلط ہے ،اس نے توبہ کی اور مسلمانوں میں فتنہ پھیلانا چھوڑ دیا ۔
(تھذیب دمشق الکبیر ،ترجمہ صبیغ بن عسل ،ملخصا)(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٤٧،ملخصا)
٭٭٭٭
امام احمد رضابریلوی نے بھی یہی طریقہ اپنا یا تھا کہ بد مذہبوں سے سلام وکلام نہ کرو

جھوٹا راوی

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
المعروف بالکذب لا عدالۃ لہ
جو جھوٹ بولنے میں معروف ہو، اسکی کوئی عدالت نہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٥٠)
٭٭٭٭

غوث اعظم صحابہ سے افضل 

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
حضور سیدنا غوث الاعظم کو
صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنھم سے افضل کہنا گمراہی ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٥٠)
٭٭٭٭
امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(غوث اعظم کو جو) بذات خود بے عطائے الہی مالک نفع و ضرر جانے ،یہ کفر خالص ہے اور کوئی مسلمان اس قصد سے نہیں کہتا
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٥٠)
٭٭٭٭

سود کی مذمت پر حدیث

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
سود کی نسبت صحیح حدیث میں حضور اقدس نے فرمایا :سود کھانا ستر گناہوں کا مجموعہ ہے ،ان میں سے سب سے ہلکا گناہ ایسا ہے ،جیسے آدمی اپنی ماں سے زناکرے (ابن ماجہ)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٥٥)
٭٭٭٭
امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
سود اور جوئے کا اثر مال پر ہے ،اور زنا کا ناموس (عزت ) پر
اور ناموس مال سے عزیز تر ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٥٥)
٭٭٭٭

گناہ گار والدین کی اطاعت

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
اطاعت والدین جائز باتوں میں فرض ہے ،اگرچہ وہ خودکبیرہ گناہ کر نے والے ہوں ان کے کبیرہ گناہ کا وبال انھیں پر ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٥٧،ملخصا)
٭٭٭٭
امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(والدین) اگر کسی ناجائز بات کا حکم دیں ،تو اس میں ان کی اطاعت جائز نہیں ،کیونکہ
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ 
اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں
(مسند احمد )(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٥٧،ملخصا)
٭٭٭٭
امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
ماں باپ اگر گناہ کرتے ہوں ،تو ان سے نرمی و ادب سے گزارش کرے ،اگر مان لیں تو ٹھیک ،ورنہ سختی نہیں کر سکتا ،بلکہ ان کی غیرموجودگی میں ان کے لیے دعا کرے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٥٧،ملخصا)
٭٭٭٭

ایذاء رسانی

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
بلاوجہ شرعی ایذا رسانی تو کسی مسلمان کی بھی حلال نہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٥٧،ملخصا)
٭٭٭٭

کفریات کا تماشہ

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
کفریات کو تماشہ بنانا ضلال بعید ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٥٨،ملخصا)
٭٭٭٭

حرام کا تماشہ

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
حرام کو تماشہ بنانا حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٥٩،ملخصا)
٭٭٭٭

کفار کی تعریفیں

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
غمز العیون میں ہے :ان من رای امر الکفار حسنا فقد کفر
جس نے کفار کے کسی امر کو اچھا کہا اس نے کفر کیا
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٥٩)
٭٭٭٭

غیر مسلم عبادت گاہ میں جانا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
معبدِ کفار(کفار کی عبادت کی جگہ ) میں جانا گناہ ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٥٩)
٭٭٭٭

گرجے اور چرج میں جانا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
یہودیوں کی عبادت گاہ ،اور عیسائیوں کے گرجے (چرچ)میں کسی مسلمان کا داخل ہونا مکروہ (تحریمی ) ہے ،اس لیے کہ وہ شیطان کے جمع ہونے کی جگہ ہے(فتاوی عالمگیری) بحرالرائق میں ہے: مکروہ تحریمی ہے (یعنی حرام ہے)(ص ١٦٠)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٥٩)
٭٭٭٭

معبد کفار میں نمازپڑھنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
کفار کی عبادت گاہ میں جب داخل ہونا حرام ہے ،تو نماز پڑھنا تو بدرجہ اولی حرام ہے
رد المحتار میں ہے :فاذا حرم الدخول فالصلوۃ اولی
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٦٠،ملخصا)
٭٭٭٭

کفار کے اجتماع

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
کفار کا مجمع ہر وقت محلِ لعنت ہے ،تو اس سے دوری ہی میں خیر و سلامتی ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٦٠،ملخصا)
٭٭٭٭
امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
غنیۃ ذوی الاحکام ،پھر فتح اللہ المعین پھر طحطاوی میں ہے
ھم محل نزول اللعنۃ فی کل وقت
مقامات کفار پر ہر وقت خدا کی لعنت برستی ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٦٠،ملخصا)
٭٭٭٭
امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(کفار کو عبادت کرتے ہوئے دیکھنا )
جس وقت کفار غیر خدا کو پوج رہے ہوں ،یقینا اس وقت لعنت اترتی ہے اور بلاشبہ اس میں تماشائیوں کا بھی حصہ ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٧٠)

گناہ کا ٹول فروخت کرنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
ماقامت المعصیۃ بعینہ یکرہ بیعہ تحریما
جس کے ساتھ بعینہ گناہ قائم ہو ،اس کا فروخت کرنا مکروہ تحریمی ہے
(ردالمحتار)(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٦٠،ملخصا)
٭٭٭٭

فاسق اعتقادی 

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
غنیہ میں ہے :فسق الاعتقاد اشد من فسق العمل
فاسق اعتقادی فاسق عملی سے بدتر ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٦٢،ملخصا)
٭٭٭٭

شریعت ظاہر پر حکم لگاتی ہے

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
شریعت ظاہر پر حکم فرماتی ہے :حدیث میں ہے :من تشبہ بقوم فھو منھم
جو کسی قوم سے مشابہت پیدا کرے گا وہ انھیں میں سے ہے (ابوداؤد)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٦٧،ملخصا)
٭٭٭٭

مسلمان اور کافر کا اتحاد

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(ہندو مسلم اتحاد )
وہ مصلحت ملعونہ جو کہ ان کے دل میں شیطان نے القاء کی ہے ،وہ خود حلال کب ہے ،کافر ومومن میں اتحاد کیسا ،اللہ تعالی فرماتا ہے :
یا ایھا الذین امنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء (1/60)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٦٨)

قبول اسلام کے بعد غسل 

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(جو اسلام قبول کرے اسے فورا غسل کر لینا چاہیے )
اسلا م لاتے ہی معا(فورا) ہر قوم والے کو غسل کرنا چاہیے ،خصوصا وہ قوم کہ نجاست میں تلوث جن کا پیشہ ہو (یعنی ہندو )
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٧٢،ملخصا)

فورا اسلام قبول کروائیں

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(کافر اسلام قبول کرنا چاہے تو فورا قبول کروائیں ،دیر لگانا کفر ہے )
جوکافر تلقین اسلام چاہے ،اسے تلقین فرض ہے ،اور اس میں دیر لگانا اشد کبیرہ ،بلکہ اس میں تاخیر کو علماء نے کفر لکھا ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٧٢،ملخصا)

بدگمانی 

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(کیا مسلمان پر بدگمانی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟)
مسلمان پر بدگمانی حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٧٢،ملخصا)

کافروں کی طرف مائل کی نشانی

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(غیر مسلم کیا کہیں گے اس کی فکر نہ کریں)
کافروں کے غلط طعنہ کا لحاظ کرنا اور اس کا خیال نہ کرنا کہ اس سے مسلمان کی دل شکنی ہو گی ،کسی ایسے ہی کا کام ہے جو نراجاہل ہے یا معاذ اللہ کافروں کی طرف مائل ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٣،ملخصا)

قرآن و حدیث خود پڑھنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(عوام قرآن و حدیث کو خود نہ سمجھیں بلکہ)
قرآن عظیم نے غیر عالم کے لیے یہ حکم دیا ہے کہ عالم سے پوچھو
فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ(النحل :٤٣)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٣،ملخصا)

اپنے دل سے فتوی لو حدیث

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(اپنے دل سے فتوی لو،یہ حدیث کس کے لیے ہے؟)
جو عالم ،فقیہ ،بصیرت رکھنے والا ،علم میں مہارت وتجربہ رکھنے والا اور علم کا سمندر ہو تو اسے حدیث میں حکم ہے :اپنے دل سے فتوی پوچھیے،اگرچے تمھیں مفتیان کرام فتوی دے چکے ہوں من کان عالما فقیھا مبصرا ماھر ا متبحرافھو مامور بقولہ علیہ السلام استفت قلبک وان افتاک المفتون (اتحاف السادۃ)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٤،ملخصا)

عورت مسلمان شوہر کافر

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(عورت مسلمان ہو جائے مگر شوہر کافر ہی ہو تو ۔۔۔۔۔۔؟؟)
جب عورت مسلمان ہو جائے ،حکم یہ ہے کہ اس کے شوہر سے اسلام لانے کو کہا جائے مان لے تو ٹھیک وہ اس کی بیوی ہے ،اور نہ مانے ،تو اس کا یہ انکار کر نا اس نکاح کو ساقط کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔(یہ حکم وہاں کے لیے ہے جہاں حاکم اسلام ہو )۔۔۔۔۔۔اگر حاکم اسلام نہ ہو ،تو عورت تین حیض انتظار کرے ،اس مدت میں اگر وہ مسلمان نہ ہو نکاح زائل ہو جائے گا(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٤،ملخصا)

حرام کو حلال کرنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(حرام کو حلال کرنا یا حلال کو حرام کرنا دونوں کفر ہیں )
کتب عقائد میں تصریح ہے کہ تحلیل حرام و تحریم حلال دونوں کفر ہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٥،ملخصا)
امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(حرام کو حلال کرنا یا حلال کو حرام کرنا دونوں کفر ہیں )
کتب عقائد میں تصریح ہے کہ تحلیل حرام و تحریم حلال دونوں کفر ہیں ۔۔۔۔۔۔قرآن کریم میں ہے :وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہَذَا حَلَالٌ وَہَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَی اللَّہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللَّہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُونَ
(النحل :١١٦)(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٥،ملخصا)

فاسق کو امام بنانا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(فاسق اعتقادی یا فاسق عملی کو امام بنا نا گناہ ہے )
غنیہ میں ہے :لو قدموا فاسقا یاثمون
اگر لوگوں نے کسی فاسق کو امام بنا کر آگے کیا تو لوگ گناہ گار ہوں گے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٥،ملخصا)

کفر پر رضامندی 

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(کفر پر راضی ہونا کفر ہے )
فان الرضی بالکفر کفر
کفر سے خوشنودی کفر ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٦،ملخصا)
٭٭٭٭

اعلی حضرت کی دعا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(اعلی حضرت کی دعا )
اللہ تعالی سچا اسلام دے ،اس پر سچی استقامت عطافرمائے ،اور اپنی اور اپنے حبیب اکرم ؐ کی سچی محبت دے ،اور ان کے دشمنوں سے کامل عداوت ونفر ت عطا فرمائے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٧،ملخصا)
٭٭٭٭

عمل ضروری ہے

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(عمل سے بھی ظاہر ہو نا چاہیے کہ ہمیں اللہ و رسول ؐ سے سب سے زیادہ محبت ہے)
زبان سے سب کہہ دیتے ہیں ،کہ ہاں ،ہمیں اللہ و رسول کی محبت و عظمت سب سے زائد ہے ،مگر عملی کاروائیاں آزمائش کرا دیتی ہیں کہ کون اسے دعوے میں جھوٹا اور کون سچا ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٧٧،ملخصا)
٭٭٭٭

زنا کی شرعی سزا کی گواہی

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(زنا کی گواہی ایسی ہونی چاہیے ،ورنہ 80کوڑے سزا ہے الزام لگانے والے کیلئے )
زناثابت نہیں ہوسکتا ،جب تک چار مرد ،عاقل ،بالغ ،ثقہ ،متقی ،پرہیزگار اپنی آنکھ سے ایسا مشاہدہ نہ بیان کریں ،جیسے سرمہ دانی میں سلائی ۔۔۔۔۔۔(ورنہ )بحکم قرآن مجید اسی کوڑوں کا مستحق ہوگا۔
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٨٤،ملخصا)
٭٭٭٭

اجنبی عورت سے تنہائی

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی )
اجنبی عورت سے خلوت حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٨٤،ملخصا)
٭٭٭٭

حرام کمائی 

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(حرام کام کی کمائی )
حرام فعل کی اجرت میں جو کچھ لیا جائے وہ بھی حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٨٧،ملخصا)
٭٭٭٭

ناجائز کام 

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(ناجائز کام کو چھوڑنا واجب ہے ،اس کی کمائی بھی حرام ہے )
ناجائز کام کا ترک واجب اور اس پر اجرت لینا حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٨٨،ملخصا)
٭٭٭٭

جاندار پیدا ہونے کا اصول 

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(نمی والی چیز پر جب حرارت عمل کرے گی جاندار پیدا ہوںگے )
قانون فطرت ہے:رطوبت میں حرارت جب عمل کرے گی ،فیضان روح ہوگا
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٨٨،ملخصا)
٭٭٭٭

مبائلہ کی تعریف

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(مباہلہ کیا ہوتا ہے ،کیا یہ جائز ہے ؟؟)
مباہلہ یہ ہے کہ دو فریق جمع ہو کر اپنا اپنا دعوی بیان کریں ،اور ہر فریق دعا کرے کہ ان دونوں میں جو جھوٹا ہو ،اس پر لعنت الہی ہو ،یہ جائز ہے ،اب تک مشروع ہے کمانص علیہ فی رد المحتار
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٨٩،ملخصا)
٭٭٭٭

مبائلہ کب جائز ہے

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(مباہلہ کس کس بات پر جائز ہے ؟؟)
مباہلہ ہر اس صورت میں ہوسکتا ہے ،جس میں اپنے قول کی حقانیت پر یقین قطعی ہو مشکوک و مظنون بات پر مباہلہ کرنا سخت جرات ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٨٩،ملخصا)
٭٭٭٭

تقلید ائمہ پر مباہلہ کرنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(اماموں کی تقلید جائز ہے یہ اتنی یقینی بات ہے کہ اس پر مباہلہ کرنا جائز ہے)
ہم غیر مقلدوں سے اس پر مباہلہ کر سکتے ہیں کہ امام اعظم و امام شافعی ائمہ دین ہیں ،اور انکی تقلید جائز ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٨٩،ملخصا)
٭٭٭٭

خدا کے نافرمان کی تعریفیں

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
حدیث میں ہے:اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلک العرش
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے ،رب غضب فرماتا ہے ،اور عرش الہی ہل جاتا ہے
(شعب الایمان ،مسند ابو یعلی )(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٩١،ملخصا)
٭٭٭٭

لینا حرام تو دینا حرام

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(ایک اہم قاعدہ )
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ
جس چیز کا لینا حرام ہے ،اس کا دینا بھی حرام ہے
(الاشباہ والنظاہر )(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٩٦،ملخصا)
٭٭٭٭

ضرورت کی تعریف اور قاعدہ 

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(ضرورت :۔۔۔۔۔۔جس سے انسان ہلاک یا قریب ہلاک ہو )
الضرورات تبیح المحظورات
ضرورتیں ممنوعات کو مباح کر دیتی ہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٩٧،ملخصا)
٭٭٭٭
امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(مثلا 3000والی جائز،اور 15000والی ناجائز نوکری ملتی ہے،تو ناجائز اختیار کرنا حرام ہے)
مجرد تحصیل منفعت کے لئے کوئی ممنوع مباح نہیں ہوسکتا
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٩٧،ملخصا)
٭٭٭٭

جانا لازم قبول اسلام کیلئے دعوت

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(کافرکو مسلمان کرنے کے لیے جانا لازمی ہے)
اگر کچھ کافروں نے کہا :ہم تمہارے ہی ہاتھ پر مسلمان ہوگے،آکر ہمیں مسلمان کر لو ،تولازم ہے کہ جائے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص١٩٩،ملخصا)
٭٭٭٭

ظن غالب اور یقین

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(ظن غالب)
فان الظن الغالب ملتحق بالیقین
بے شک ظن غالب یقین کے ساتھ لاحق ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ١٩٩،ملخصا)
٭٭٭٭

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(عشق مصطفی ؐ میں ڈوبی ہوئی ایک تحریر )
عمدہ درود اور سب سے کامل سلام ان پر نازل ہو ،کہ جنھوں نے ہمارے لیے پاک اور ستھری چیزیں حلال فرمادیں ،اور گندی چیز یں ہم پر حرام کر دیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ٢٠١،ملخصا)
٭٭٭٭

ہلکی مصیبت

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(ہلکی اختیار کرے )
دو بلاؤں کا مبتلا ان میں سے ہلکی کو اختیار کرے ۔۔۔۔۔۔
یُرِیدُ اللَّہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیدُ بِکُمُ الْعُسْرَ (البقرۃ:١٨٥)
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ٢٠٣،ملخصا)
٭٭٭٭

سود لینا اور دینا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(سو د )
سود کا لینا دینا دونوں حرام ہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ٢٠٤،ملخصا)
٭٭٭٭

مراتب اور ان  کی مثالیں

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(مراتب پانچ ہیں )
مراتب پانچ ہیں :ضرورت ،حاجت ،منفعت ،زینت ،فضول
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢٠٥،ملخصا)
ضرورت :۔۔۔۔۔۔جس سے ہلاک یا قریب ہلاک ہو
حاجت:۔۔۔۔۔۔جس سے حرج و مشقت میں پڑے
منفعت:۔۔۔۔۔۔روٹی اور گوشت
 زینت :۔۔۔۔۔۔حلوا ،مٹھائی
 فضول :۔۔۔۔۔۔طعام شبہ حرام
٭٭٭٭

شریعت پانچ چیزوں کی حفاظت کیلئے ہے 

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(پانچ چیزوں کی حفاظت کے لیے اللہ کی شریعت ہے )
پانچ چیزیں ہیں ،جن کے حفظ کو اقامت شرائع الہیہ ہے
دین و عقل و نسب ونفس و مال
عبث محض کے سوا تمام افعال اسی میں دورہ کرتے ہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢٠٥،ملخصا)

مثالیں:
نسب کی حفاظت :زنا منع
مال کی حفاظت :چوری،غصب ،سود ممنوع
نفس کی حفاظت :قتل ممنوع علی ھذا القیاس
٭٭٭٭

ڈوبتے کو بچانے کیلئے نماز توڑنا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(کوئی ڈوب رہا ہواور یہ بچانے پر قادر ہو تو نماز توڑنا ضروری ہے )
کوئی دریا کے کنارے نماز پڑھ رہا ہے ،اور کوئی شخص ڈوبنے لگا ،اور یہ بچا سکتا ہے ،تو لازم ہے کہ نیت توڑے اور اسے بچائے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢٠٦،ملخصا)
٭٭٭٭

امید اور خوف 

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
اللہ تعالی سے خوف و امید ہر وقت رکھنا چاہیے
(فتاوی رضویہ ،جلد ٢٧،ص ٤٢،ملخصا)
٭٭٭٭

حدیث بالمعنی روایت کرنا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(سوا ل :کیا صحابہ کرام کو حدیث بالمعنی روایت کرنے کی اجازت تھی؟ )
روایت حدیث کے دونوں طریقے ہیں،روایت باللفظ اور روایت بالمعنی
خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحدیث بالمعنی کی اجازت فرمائی ہے
قرآن عظیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں نقل بالمعنی جائز نہیں
(فتاوی رضویہ ،ج٢٧،ص٤٩،ملخصا)
٭٭٭٭

نفل شروع کرکے توڑنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(نفل شروع کر کے توڑنا حرام ہے)
وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَکُمْ
اعمال کو باطل نہ کیا کرو
(محمد :٣٣)
٭٭٭٭

نماز قضاء کرنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(نماز جان بوجھ کر قضا کرنا)
نماز قصدا ًقضاء کرنا حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢٠٦،ملخصا)
٭٭٭٭

اندھے کو بچانے کیلئے نماز توڑنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(اندھے کی جان بچانے کیلئے نماز توڑنا )
نماز پڑھ رہا ہے ،اور اندھا کنویں کے قریب ہے ،اگر یہ نہ بتائے تو وہ کنویں میں گرجائے گا ،نماز توڑ کر بتانا واجب ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢٠٦،ملخصا)
٭٭٭٭

جان بچانے کیلئے نماز قضاء کرنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(جان بچانے کیلئے نماز قضا ء کرنا )
نماز کا وقت تنگ ہے ،ڈوبتے کو بچانے میں نکل جائے گا
بچائے اور نماز قضاء پڑھے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢٠٦،ملخصا)
٭٭٭٭
امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(جان بچانے کیلئے نماز قضا ء کرنا )
رد المحتار میں ہے :
جاز قطع الصلوۃ وتاخیرھا لخوفہ علی
نفسہ ومالہ و نفس غیرہ ومالہ
نماز توڑ دینا یا تاخیر کرنا جائز ہے
جب اپنے یا غیر کی جان و مال کا خوف ہو
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢٠٧،ملخصا)
٭٭٭٭

حج سے پہلے اہل خانہ کی ضروریات کا بندوبست

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(حج پر جانے سے پہلے )
جن کا نفقہ اس پر لازم ہے ،ان کا بندو بست کیے بغیر حج کو نہ جائے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢٠٧،ملخصا)
٭٭٭٭

گناہ میں امداد کرنا

امام احمد رضابریلوی فرماتے ہیں
(گناہ میں مدد کرنا )
گناہ کے کاموں میں کسی کی امداد کرنا
کبیرہ گناہوں میں شامل ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص٢١٠،ملخصا)
٭٭٭٭

جنگل کی لکڑیوں کیلئے رشوت دینا

امام احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
(جنگل سے لکڑی لینے کیلئے رشوت )
لکڑی جنگل سے مفت مل سکتی ہے ،اور ایک شخص لینے نہیں دیتا ،جب تک اسے رشوت نہ دی جائے ،یہ رشوت دینا بھی حرام ہے
(فتاوی رضویہ ،ج٢١،ص ٢١٠،ملخصا)
٭٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کل مولانا احمد رضا بریلوی ۔۔۔کے فتاوی کا مجموعہ ۔۔۔۔فتاوی رضویہ ۔۔۔پڑھ رہا ہوں
جلد ستائیس ٢٧زیر مطالعہ ہے
بعض اوقات انکی زبان تلخ ہوجاتی ہے ۔۔۔۔مگر سچ تو یہ ہے کہ علم کا پہاڑ تھا ۔۔۔۔یہ شخص

چند باتیں خود ملاحظہ فرمائیں
سوال جواب کا خلاصہ پیش خدمت ہے

عورت میں مرد سے زیادہ شہوت کا سبب

سوال :۔۔۔مرد کو ایک حصہ شہوت دی گئی ہے ۔۔۔جبکہ عورت کو نوحصے ۔۔۔۔پھر ایک حصہ شہوت والا مرد ۔۔۔چار بیویوں کی خواہش کیسے پوری کر سکتا ہے ۔۔۔عورت کو نو حصے شہوت دینے میں حکمت کیا ہے ؟
جواب :۔۔۔عورت کی شہوت فقط نو حصے نہیں بلکہ سو حصے زائد ہے
ولکن اللہ القی علیھن الحیاء ۔۔۔۔لیکن اللہ تعالی نے ان پر حیا ڈال دی ہے (المقاصد الحسنۃ ،کتاب النکاح )
انسان اپنے سے زائد عقل والے کو کام کرتا دیکھے ۔۔۔تو اس پر اعتراض نہیں کرتا ۔۔۔پھر انسان ۔۔۔رب العزت ۔۔۔جو حکیم و خبیر ہے ۔۔۔اس کے افعال میں کیوں خدشا ت پیدا کرتا ہے ۔۔۔

اس میں ایک سہل سی حکمت یہ ہے کہ:فعل ِ جماع میں مرد کا تعلق ۔۔۔صرف لذت کا ہے ۔۔۔۔جبکہ عورت کو صد ہا مصائب کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے ۔۔۔۔چلنا ،پھرنا ،اٹھنا ،بیٹھنا دشوار ہو جاتا ہے ۔۔۔۔پھر پیدا ہوتے وقت تو ۔۔۔۔ہر جھٹکے پر ۔۔۔۔موت کا پورا سامنا ہوتا ہے ۔۔۔۔طرح طرح کے درد میں ۔۔۔نفاس کے خون والی کی تو نیند اڑجاتی ہے
اسی لیے اللہ تعالی فرماتا ہے
حملتہ امہ کرھا ،ووضعتہ کرھا ،وحملہ و فصلہ ثلثون شھرا
اس کی ماں نے اس کوتکلیف سے پیٹ میں رکھا ،اور اس کوجنا تکلیف سے ،اور اس کو اٹھائے پھرنا ،اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے
(القران :٥٤:١٥)
حکمت :۔۔۔
ہر بچے کی پیدائش میں عورت کے لیے تین سال کی قید با مشقت ہے ۔۔۔۔۔۔اگر اس قدر کثیر و غالب نہ رکھی جاتی ۔۔۔۔۔تو ایک بار کے بعد پھر کبھی پاس نہ آتی ۔۔۔۔دنیا کا نظام تباہ ہو جاتا ۔۔۔۔اگر مرد کے پیٹ سے ایک دفعہ بھی چوہے کا بچہ پیدا ہوتا ۔۔۔۔تو عمر بھر کیلئے کان پکڑ لیتا ۔۔۔۔یہ حکمت ہے جس کے سبب وہ ان تمام مصائب کو بھول جاتی ہے ۔

تمام احادیث پر عمل ناممکن ہے

احادیث کے متعلق ایک اہم بات :
حضرات صحابہ کرام سے لے کر ۔۔۔پچھلے ائمہ مجتھدین تک ۔۔۔کوئی مجتھد ایسا نہیں ۔۔۔جس نے بعض احادیث صحیحہ کو ۔۔۔موؤل یا مرجوح ۔۔یا کسی نہ کسی وجہ سے ۔۔۔متروک العمل نہ ٹھہرایا ہو۔

آسمانی بجلی رعد کیا ہے

بجلی کیا چیز ہے؟؟
اللہ تعالی نے بادلوں کو چلانے کیلئے ۔۔۔ایک فرشتہ مقرر فرمایا ہے۔۔۔جس کا نام ''رعدــ'' ہے ۔۔۔اس کا قد بہت چھوٹا ہے ۔۔۔اور اس کے ہاتھ میں ۔۔۔ایک بہت بڑا کوڑا ہے ۔۔۔۔جب وہ کوڑا بادل کو مارتا ہے ۔۔۔اسکی تری سے آگ جھڑتی ہے ۔۔۔اسی کا نام بجلی ہے

زلزلہ کے اسباب اور کوہ قاف کا پہاڑ

زلزلہ آنے کا کیا باعث ہے ؟؟
سبب حقیقی تو اللہ تعالی کا ارادہ ہے ۔۔۔۔عالم اسباب میں باعث اصلی ۔۔۔بندوں کے معاصی
قرآن میں ہے:
ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفو عن کثیر
تمھیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کا بدلہ ہے ،اور بہت کچھ وہ معاف فرما دیتا ہے
(القرآن )
اور وجہ ۔۔۔۔کوہ ِ قاف ۔۔۔کے ریشہ کی حرکت ہے ۔۔۔حق تعالی سبحانہ و تعالی نے تمام زمین کو محیط ۔۔۔ایک پہاڑ کو پیدا کیا ہے ۔۔۔۔جس کا نام ۔۔قاف۔۔ ہے ۔۔۔۔کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اس کے ریشے زمین میں پھیلے ہوئے نہ ہو ں۔۔۔جس طرح ۔درخت کی جڑ ۔۔۔بالائے زمین تھوڑی سی جگہ میں ہوتی ہے ۔۔۔۔اور اس کے ریشے زمین کے اندر بہت دور،دور تک پھیلے ہوتے ہیں ۔۔۔تاکہ اس کے لیے وجہ قرار ہو ں ۔۔۔۔اور آندھیوں میں گرنے سے روکیں ۔۔۔پھر درخت جس قدر بڑا ہو گا ۔۔۔اتنی ہی زیادہ دور تک اس کے ریشے گھیرے گے ۔۔۔۔

جبل قاف ۔۔۔۔۔جس کا دَور ۔۔۔تمام کرہ زمین کو اپنی لپیٹ میں لئے ہے ۔۔۔اس کے ریشے ساری زمین میں اپنا جال بچھائے ہیں ۔۔۔۔کہیں اوپر ظاہر ہو کر پہاڑیاں ہو گئے ۔۔۔۔کہیں سطح تک آکر تھم گے ۔۔۔جس کو سنگلاخ زمین کہتے ہیں ۔۔۔کہیں زمین کے اندر ہیں ۔۔۔قریب یا بعید ۔۔۔۔
جس جگہ زلزلہ کیلئے ارادہ الہی ہوتا ہے ۔۔۔(والعیاذ برحمتہ و رحمۃرسولہ) ۔۔۔۔قاف کو حکم دیتا ہے ۔۔۔کہ وہ اپنے وہاں کے ریشے کو جنبش دیتا ہے ۔۔۔اسی لیے صرف وہی زلزلہ آتا ہے ۔۔۔۔جہاں وہ اپنے ریشے کو حرکت دیتا ہے ۔۔۔پھر جہاں خفیف کا حکم ہوتا ہے ۔۔۔اس کے محاذی ریشہ کو آہستہ ہلاتا ہے ۔۔۔۔جہاں شدید کا امر ہوتا ہے وہاں بقوت ۔۔۔یہاں تک کہ بعض جگہ صرف ایک دھکا سا لگ کر ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔اسی وقت قریب کے دوسرے مقام کے در و دیوار جھونکے لیتے ہیں ۔۔۔تیسری جگہ زمین پھٹ کر پانی نکل آتا ہے ۔۔(مزید بھی بہت کچھ لکھا ۔۔۔جدید لوگ جسے سبب سمجھتے ہیں اس پر بھی مختصر بحث کی۔۔ہم بس ایک حوالہ نقل کر کے اپنی بات کا اختتام کرتے ہیں )
امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ۔۔۔۔۔کتاب العقوبات ۔۔۔میں
ابو الشیخ ۔۔۔کتاب العظمۃ ۔۔۔میں
حضرت عبد اللہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں
قال خلق اللہ جبلا ،یقال لہ قاف ،محیط بالعالم ،وعروقہ الی الصخرۃ التی علیھا الارض ،فاذا اراد اللہ ان یزلزل قریۃ امر ذالک الجبل ،فحرک العرق الذی یلی تلک القریۃ ،فیزلزلھا ویحرکھا ،فمن ثم تتحرک القریۃ دون القریۃ
اللہ تعالی نے ایک پہاڑ پیدا کیا ہے ۔۔۔جس کا نام قاف ہے ۔۔وہ تمام زمین کو محیط ہے ۔۔۔اس کے ریشے اس چٹان تک پھیلے ہیں ۔۔۔جس پر زمین ہے ۔۔جب اللہ عزوجل کسی جگہ زلزلہ لانا چاہتا ہے ۔۔۔اس پہاڑ کو حکم دیتا ہے ۔۔وہ اپنے اس جگہ کے متصل ریشے کو ۔۔۔لرزش و جنبش دیتا ہے ۔۔۔۔یہی باعث ہے کہ زلزلہ ۔۔۔۔ایک بستی میں آتا ہے ۔۔۔دوسری میں نہیں ۔۔
(انشاء اللہ ۔۔۔اگر موقع ملا تو دوسری جلدوں کے متعلق کچھ لکھوں گا ۔۔۔معذرت خواہ ہوں کہ بات لمبی ہوگئی )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیک لوگوں کا تذکرہ کرنا

سوال:۔۔۔۔۔۔نیک لوگوں کا تذکرہ کرنے کا کیا فائدہ ہے ۔۔۔۔۔۔؟
عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ(مرقاۃ)
صالحین کے تذکرہ پررحمت کا نزول ہوتاہے
(فتاوی رضویہ،ج١٠ ،ص ،٣٤٤)
٭٭٭٭

نابالغ کا روزہ چھوڑنا

سوال :۔۔۔۔۔۔اگر نابالغ بہت کمزوری کی وجہ سے روزہ ترک کرے تو گناہ گار ہو گا یا نہیں ؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔اگر بے عذر بھی افطار کرے اُسے گنہ گار نہ کہیں

تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا

لقولہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم رفع القلم عن ثلثۃ الی قولہ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم وعن الصبی حتی یحتلم
حضور صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھالیا گیاہے۔ ان میں آپ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے اس بچّے کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچا(مستدرک )
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٢)
٭٭٭٭

نماز اور روزہ رکھنے کی عمر

سوال:۔۔۔۔۔۔بچے کو کتنے سال کی عمر میں نماز روزے کا حکم دینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔بچّہ جیسے(ہی ) آٹھویں سال میں قدم رکھے اس کے ولی پر لازم ہے کہ اسے نماز روزے کا حکم دے
اور جب اُسے گیاروہواں (سال )شروع ہوتو ولی پر واجب ہے کہ صوم و صلوۃ پر مارے
بشرطیکہ روزے کی طاقت ہو اور روزہ ضرر نہ کرے(یعنی تکلیف نہ دے )
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٢)
٭٭٭٭
سوال :۔۔۔۔۔۔بچے کو کتنے سال کی عمر میں حکم ِنمازدیا جائے اور ترک پر سزاد ی جائے ؟؟
جواب:۔۔۔۔۔۔حدیثِ صحیح میں ہے کہ حضورپُرنور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مروا اولاد کم بالصلوٰۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر
جب بچّے سات سال کے ہوجائیں تو ا نھیں نماز کو کہو اور دس سال کے ہوجائیں توانھیں ترکِ نماز پر سزا دو
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٢)
٭٭٭٭
سوال :۔۔۔۔۔۔نماز کا حکم تو سات سال کی عمر میں دینا چاہیے روزے کا حکم کب دینا چاہیے؟؟
جواب:۔۔۔۔۔۔درمختار میں ہے: والصوم کالصّلٰوۃ علی الصحیح
صحیح قول کے مطابق روزہ کا حکم نماز ہی کی طرح ہے
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٢)
٭٭٭٭
سوال :۔۔۔۔۔۔بچے کو گیارہ سال میں ترک روزہ پر سزادینی چاہیے کیااگر بچہ اس عمر میں بہت کمزور ہو تو بھی ؟؟
جواب:۔۔۔۔۔۔فتاوی عالمگیری میں ہے :ھذا اذالم یضرالصوم ببدنہ فان اضرلایؤمربہ
یہ اس وقت ہے جب روزہ جسمانی تکلیف کا سبب نہ بن رہا ہو،اگر بن رہا ہو تو پھراسے نہ کہاجائے
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٢)
٭٭٭٭
رمضان میں قرآن کا دور
سوال:۔۔۔۔۔۔کیا حافظ قرآن پر رمضان میں ہی دورِ قرآن کرنا ضروری ہے ؟؟
جواب:۔۔۔۔۔۔شرعاً صیام کے لیے ایّام معین ہیں جن کے فوت سے ادافوت ہوگی اور دور کے لیے کوئی دن مقرر نہیں ہمیشہ وہر وقت کرسکتے ہیں
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٢)
٭٭٭٭

بچوں کو کیا سکھائیں

سوال :۔۔۔۔۔۔بچے کو کیا کیا اچھی بات سکھانی چاہیے ؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔ولی کو چاہئے بچّے کو ہر خیر کاحکم دے اور ہرشر سے باز رکھے
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٢)
٭٭٭٭
سوال :۔۔۔۔۔۔بچے کی تربیت کیسے کی جائے ؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔ینبغی ان یومر لجمیع المأمورات وینھی عن جمیع المنھیات
ولی پر لازم ہے کہ وُہ بچّے کو تمام اوامر(احکام ) کو بجالانے اور تمام منہیات (ممنوع چیزوں )سے باز رہنے کا کہے
(ردالمحتار)(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٢)
٭٭٭٭

مسافر روزہ رکھے یا چھوڑے

سوال :۔۔۔۔۔۔شرعی مسافر روزہ رکھے یا ترک کرے ؟؟
جواب:۔۔۔۔۔۔ویندب الصوم ان لم یضرہ فان شق علیہ او علی ر فیقہ فالفطر افضل لمو افقۃ الجماعۃ
اگر اسے روزہ تکلیف نہ دے تو روزہ رکھنا مستحب ہے، اور اگر روزہ(اس کیلئے ) مشکل ہو
یا اس کے ساتھی پر مشکل ہو تو پھر جماعت کی موافقت میں افطار(کرنا) افضل ہے(درمختار)
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٤)
٭٭٭٭

قتال کی دو جائز صورتیں

سوال :۔۔۔۔۔۔قتال کی دو جائز صورتیں کون کونسی ہیں ؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔لان القتال لما کان تعریضا لنفسہ علی الھلاک لایحل الا لذٰلک اولا علاء کلمۃ اﷲتعالیٰ
قتال میں اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہوتا ہے اور یہ جائز نہیں مگر اس صورت میں
جب اپنی جان کا خوف ہو یا کلمۃاﷲتعالیٰ کی سربلندی کے لیے ہو(فتح القدیر)
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٤)
٭٭٭٭

موسموں کی تبدیلی

سوال :۔۔۔۔۔۔موسم کس وجہ سے تبدیل ہوتے ہیں ؟؟
جواب:۔۔۔۔۔۔موسموں کی تبدیلی خالق عزوجل نے گردشِ آفتاب پر رکھی ہے
مثلاً تحویلِ برج حمل سے ختمِ جوز ا تک فصل ربیع ہے
پھر تحویل سرطان سے ختمِ سنبلہ تک گرمی، پھر تحویلِ میزان سے ختمِ قوس تک خریف
پھر تحویل جدی سے ختمِ حوت تک جاڑا
یہ آفتاب کا ایک دَور ہے کہ تقریباً ٣٦٥دن اور پونے چھ گھنٹے میں پُورا ہوتاہے
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٥)
٭٭٭٭

سورج کا چکر

سوال :۔۔۔۔۔۔سورج اپنا چکرکتنے عرصے میں مکمل کرتا ہے ؟؟
جواب:۔۔۔۔۔۔آفتاب کا ایک دَور تقریباً ٣٦٥دن اور پونے چھ گھنٹے میں پُورا ہوتاہے
یعنی ٣٦٥ دن اور تقریبا دن کا چوتھا حصہ
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٥)
٭٭٭٭

قمری سال کے ایام کی تعداد

سوال:۔۔۔۔۔۔اسلامی مہینے میں اعتبار سورج کا ہے یا چاند کا ،قمری مہینہ و سال کی مقدار کیا ہو سکتی ہے ؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔عربی شرعی مہینے قمری ہیں یعنی ہلال سے شروع ہوتے ہیں اور٢٩یا ٣٠ دن میں ختم ہوتے ہیں
یہ بارہ مہینے یعنی قمری سال٣٥٤ یا٣٥٥ دن کا ہوتا ہے (یعنی )شمسی سال سے دس گیارہ دن چھوٹا ہے
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٥)
٭٭٭٭

چار سال بعد فروری انتیس کا کیوں ہوتا ہے

سوال:۔۔۔۔۔۔یہ کیا وجہ ہے کہ قمری مہینوں میں موسم تبدیل ہوتا ہے شمسی میں نہیں یعنی گرمی ہمیشہ مئی ،جون میں ہی ہوتی ہے جبکہ رمضان کبھی سردی میں کبھی گرمی میں آتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟؟
جواب:۔۔۔۔۔۔نصارٰی جنہوں نے سال وماہ سب شمسی لیے اگر یہ چوتھے سال ایک دن بڑھا کر فروری ٢٩کا نہ کرتے تو اُن کو بھی یہی صورت پیش آتی کہ کبھی جُون کا مہینہ جاڑوں میں ہوتا اور دسمبر گرمیوں میں، یوں کہ سال٣٦٥ دن کا لیا اور آفتاب کا دَورہ ابھی چند گھنٹے بعد پُورا ہوگا کہ جس کی مقدار تقریباً چھ گھنٹے، تو پہلے سال شمسی سال دورہ یافتہ سے ٦گھنٹے پہلے ختم ہوا، دوسرے سال ١٢گھنٹے پہلے، تیسرے سال ١٨گھنٹے پہلے، چوتھے سال تقریباً ٢٤گھنٹے، اور ٢٤گھنٹے کا ایک دن رات ہوتا ہے لہذا ہر چوتھے سال ایک دن بڑھا دیا کہ دورہ آفتاب سے مطابقت رہے
لیکن دورہ آفتاب پُورے چھ گھنٹے زائد نہ تھا بلکہ تقریباً پونے چھ گھنٹے، توچوتھے سال پورے گھنٹے کا فرق نہ پڑا تھا بلکہ تقریباً ٢٣گھنٹے کا اور بڑھالیا ایک ایک کہ ٢٤گھنٹے ہے،تو یوں ہر سال میں شمسی سال دورہ آفتاب سے کچھ کم ایک گھنٹہ بڑھے گا، سَوبرس بعد تقریباً ایک دن، لہذا صدی بعدایک دن گھٹا کر پھر فروری ٢٨دن کا کر لیا، اسی طرح اور دقیق کسرات کا حساب ہے
واﷲتعالیٰ اعلم
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٥)
٭٭٭

عید کے روزے کی ممانعت کا سبب

سوال :۔۔۔۔۔۔چھوٹی و بڑی عید پر روزہ رکھنا کیوں منع ہے ؟؟
الجواب: یہ دن اﷲعزوجل کی طرف سے بندوں کی دعوت کے ہیں
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٨)
٭٭٭٭

رمضان میں نیکی کا ثواب

سوال:۔۔۔۔۔۔رمضان و غیر رمضان میں ثواب برابر ہے یا کچھ فرق ہے ؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔حدیث شریف میں ہے ـ:من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن ادی فریضۃ فیما سواہ، ومن ادی فیہ فریضۃ کان کمن ادی سبعین فریضۃ فیما سواہ (رواہ ابن خزیمۃ والبیہقی)
جس نے رمضان میں کوئی نفلی نیکی کاکام کیا اسے اس شخص جیسا ثواب ملے گا جس نے ر مضان کے علاوہ میں فرض ادا کیا، اور جس نے اس میں فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے رمضان کے علاوہ میں ستّر فرض اداکئے
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٦٩)
٭٭٭٭

کیا رمضان کا چاند دیکھنا ضروری ہے

سوال:۔۔۔۔۔۔کیا رمضان اورعید کا چاند دیکھنا ضروری ہے ؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔قال رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ
اخرجہ الشیخان عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ والحدیث مشہور
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو
(فتاوی رضویہ ،ج١٠،م١٧٠)
٭٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فتاوی رضویہ ،سے چند اہم باتیں 
یہ بھی کسی جلد سے لکھے تھے لیکن ابھی یاد نہیں کہ یہ کس جلد سے لکھے تھے، البتہ یہ صفحہ نمبر رضا فاؤنڈیشن والے فتاوی رضویہ کا ہے۔ 

قوی دلیل پر عمل

الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین
 احتیاط اسی میںہے کہ دو دلیلوں میں سے جو زیادہ قوی ہو اس پر عمل کیا جائے ،جیساکہ فتح القدیر ،البحر الرائق وغیرہ میں ہے (٣٨٢)

کتب فقہ کے مسائل کی اہمیت

کتب شروح حدیث میں جو مسئلہ کتب فقہ کے خلاف ہو معتبر نہیں

حیض کے بعد پرانے کپڑے کا استعمال 

بعد فراغ حیض پرانے کپڑے سے خون کا اثر صاف کرنا مستحب ہے (٤٢٢)

منہ کی رال کا حکم

منہ کی رال مطلقا پاک ہے (٣٥٠)

ایک اصول 

بد ن سے جس چیز کے نکلنے سے وضو نہ جائے ،ناپاک نہیں (٣٥١)

بچے کے معدے سے لوٹے ہوئے دودھ کا حکم 

بچے کے معدہ تک دودھ پہنچ کر لوٹا ،اگر منہ بھر کر نکلا ،تو ناپاک ہے (٤٧٦)

جانور کے پتے کا حکم

ہر جاندار کا پتہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے ،مثلا آدمی کے پتہ نجاست غلیظہ ہیں ،گھوڑے گائے کہ نجاست خفیفہ (٤٧٨)
ہر جانور کی جگالی اس کے گوبر مینگنی کے حکم میں ہے ،مثلا اونٹ ،گائے ،بھینس ،بکری کی نجاست خفیفہ اور جلالہ کی غلیظہ (٤٧٨)

پانی کےبعد کپڑے سے شرم گاہ خشک کرنا

پانی سے استنجے کے بعد کپڑے سے خوب صاف کر لینا مستحب ہے ،کپڑا نہ ہو تو بار بار بائیں ہاتھ سے خشک کرنا ،یہاں تک کہ خشک ہو جائے (٣٣٠)

استنجاء سے متعلق چند باتیں

جب پاخانے سے استنجاء پانی کے ذریعہ کرنا ہو تو جہاں تک ہو سکے ،کشادہ ہو کر اپنے کو پورے طور پر ڈھیلا کر کے بیٹھے ،تاکہ اندر رہ جانے والی نجاست ظاہر ہو جائے اور اسے زائل کر دے (٤٢٦)
بڑے استنجے میں سنت یہ ہے کہ خوب پاؤں کو پھیلا کر بیٹھے اور سانس سے نیچے کو زوردے (٤٢٦)
پیشاب کے بعد مرد پر استبراء واجب ہے ،یعنی وہ افعال جن سے قطرہ نہ آنے کا اطمینا ن ہو جائے (٧٠٠)
استنجے سے پہلے تین بار دونوں ہاتھ کلائیوں تک دھونا مطلقا سنت ہے (٧٩٩)

انگوٹھی باتھ روم میں لیجانا

جب انگشتری پر کچھ لکھا ہوا ہو ،اسے پہن کر بیت الخلاء میں جانا مکروہ ہے (٨٩٦)

تعوید باتھ روم میں لے جانا

غلاف کے اندر تعویذ ہو تو ،بیت الخلاء جاسکتا ہے ،اور بچنا بہتر ہے (٨٩٦)

صرف شلوار میں نماز پڑھنا

خالی پاجامہ سے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے (٨٤٤)
تنہا پاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالۃ اور مردود الشھادہ ہے (٨٤٥)

صبح اورعشاء کے بعد

صبح ہونے سے طلوع آفتا ب تک دنیوی کلام مکروہ ہے (٩٨٦)
نماز عشاء کے بعد دنیا کی باتیں مکروہ ہیں (٩٨٦)

نمازمیں مٹی سے بچنا

نماز میں مٹی سے بچانے کیلئے دامن اٹھانا مکروہ ہے (١٠٠٤)

نماز میں سبحان اللہ بلند آواز سے کہنا

کسی پر یہ ظاہر کرنے کو کہ نماز پڑھتا ہوں ،سبحان اللہ وغیرہ آواز سے کہنا جائز ہے ،صرف یہی مستثنی صورت ہے (١١٠٩)
مسجد میں مسواک نہیں کرنی چاہیے (٨٢٦)

منہ کی بدبو کے ساتھ مسجد جانا

منہ میں بدبو ہو تو مسجد میں جانا یا نماز پڑھنا منع ہے (٨٣٨)

رشتہ داروں کو پہلے صدقہ دینا

جس کے عزیز محتا ج ہوں ،اسے منع ہے ،کہ انھیں چھوڑ کر غیروں کو اپنے صدقات دے ،حدیث میں فرمایا :ایسے کا صدقہ نہ ہوگا اور اللہ تعالی روز قیامت اس کی طرف نظر نہ فرمائے گا (٩٣٢)
صلہ رحم اور اپنے اقرباء کی مواسات عمدہ حسنات سے ہے ،مگر اگر نیت لوجہ اللہ نہ ہو بلکہ مثلا خون کی شرکت اور طبعی محبت کا تقاضا ہو تو اس سے عند اللہ کچھ فائدہ نہیں (١٠٠١)

کاغذ سے ہاتھ پونچھنا

کھانے کے بعد کاغذ سے ہاتھ پونچھنا نہ چاہیے (٣٣٤)

مٹی کے برتنوں کا استعمال 

کھانے پینے کے برتن مٹی کے ہونا افضل ہے ،کہ اس میں نہ اسراف ہے نہ اترانا ،اور حدیث میں ہے ،جو اپنے گھر کے برتن مٹی کے رکھے فرشتے اس کی زیارت کریں ،اور تانبے اور دانگ کے بھی جائز ہیں (٣٣٦)

دانتوں میں چاندی کی تار لگانا

ہلتا ہوا دانت چاندی کے تار سے باندھنا یا مسالے سے جمانا جائز ہے ،اور اس وقت غسل میں اس تار یا مسالے کے نیچے پانی نہ بہانا معاف ہونا چاہیے

جھوٹ اور غیبت معنوی نجاست

جھوٹ اور غیبت معنوی نجاست ہیں ،لھذا جھوٹے کے منہ سے ایسی بدبو نکلتی ہے ،کہ حفاظت کے فرشتے اس وقت اس کے پاس سے دور ہو جاتے ہیں ،جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے ،اور اس طرح ایک بدبو کی نسبت رسول اللہ ؐ نے خبر دی ہے ،کہ یہ ان کے منہ کی سڑاندھ ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں ،اور ہمیں جو جھوٹ یا غیبت کی بدبو محسوس نہیں ہوتی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس سے مالوف ہو گئے ہیں ،ہماری ناکیں اس سے بھری ہوئی ہیں ،جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلہ میں جو رہتا ہے ،اسے اس کی بدبو سے ایذا نہیں ہوتی دوسرا آئے تو اس سے ناک نہ رکھی جائے،مسلمان اس نفیس فائدے کو یاد رکھیں ،اور اپنے رب سے ڈریں جھوٹ اور غیبت ترک کریں ،کیا معاذ اللہ منہ سے پا خانہ نکلنا کسی کو پسند ہو گا ،باطن کی ناک کھلے تو معلوم ہو کہ جھوٹ اور غیبت میں پاخانے سے بدتر سڑاندھ ہے (٩٦٩)

صلیب اور بت کو چھونے سے وضو

صلیب جسے نصاری پوجتے ہیں ،اور ہنود کے بت وغیرہ کے چھونے سے بھی نیا وضو چاہیے (٩٧٢)
٭٭٭٭

امام احمد رضا بریلوی کا دفاع 

ایک دفعہ میں نے مولانا احمد رضا بریلوی کے دفاع پر ایک تحریر بھی لکھی تھی، ملاحظہ فرمائیں:
ہر طرف جھوٹے الزامات کی برسات ہے ،کوئی کہتا ہے وہ انگریز کے ایجنٹ تھے ،کوئی کہتا ہے وہ فتوی لگانے والے تھے ،جس کے دل میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے ،لوگ بھی مان لیتے ہیں ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے ،کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے ؟انھیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے ؟ 

اس کا جواب ہر ذی شعور یہی دے گا کہ دو جرم ایسے ہیں ،جن کی یہ سزا ہوسکتی ہے

پہلا جرم: حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہ کرنا 
دوسرا جرم:سلف صالحین کی سختی سے خودپیروی کرنا اور لوگوں کو بھی آمادہ کرنا

پہلا جرم توآپ سب کے سامنے ہے ،کہ انھوں نے اپنے زمانے کے مشہور و معروف لو گوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ،جن کے ہزاروں چاہنے والے تھے۔

دوسرے جرم کے بارے میں اکثر لوگ نہیں جانتے ،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کوپہلے ان کا تعارف کروا دوں ،امام احمد رضا ایک ایسے مستند عالم دین تھے ،جو ہر بات معتبر کتب کے حوالے سے لکھتے تھے ،آپ ان کے فتاوی رضویہ کی ٣٠ جلدیں پڑھ لیں ،آپ کو تقریبا ہر بات ہی کسی مستند کتاب کے حوالے کے ساتھ ملے گی ،بلکہ وہ ہر کتاب کی اصل عبارت (عربی یا فارسی )زبان میں ساتھ تحریر فرماتے تھے ،میں آپ کے سامنے ان کے فتاوی سے چند باتیں آسان الفاظ میں حوالہ کتب کے ساتھ نقل کرتاہوں ،ان سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کی معلومات کس قدر وسیع تھی۔

 حدیث :جو چیز بدھ کے دن شروع کی جائے و ہ اتمام کو پہنچتی ہے(کشف الخفائ) 

روایت حدیث کے دو طریقے ہیں روایت باللفظ ،روایت بالمعنی ،حضور نے خود تحدیث بالمعنی کی اجازت فرمائی ،(ج٢٧،ص٤٩)

صبیغ بن عسل کا واقعہ

حضرت عمر ؓ نے صبیغ بن عسل سے مسلمانوں کو سلام وکلام کرنے سے منع فرمادیا ،کیونکہ وہ لوگوں سے متشابھات قرآن کے متعلق سوالات کرتا تھا (تھذیب تاریخ دمشق )

پانچ چیزوں کی حفاظت کیلئے اللہ تعالی کی شریعت ہے ،دین ،عقل ،نسب ،نفس اورمال ،(فالتو کام کے سوا تمام افعال ان ہی میں گھومتے ہیں )(ج٢١،ص ٢٠٥)

حدیث :ابتداء زمانہ رسالت میں گھروں میں چراغ بھی نہیں ہوتے تھے (بخاری ،مسلم)

حدیث :جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے ،تو رب غضب فرماتا ہے ،اور عرش الہی ہل جاتا ہے (مسند ابو یعلی)

جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے (الاشباہ والنظاہر )

ہندو ،مسلم اتحاد نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآن میں ہے :میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ (ج٢١،ص ١٦٨)

غیر عالم کو حکم ہے علماء سے سوا ل پوچھو:قرآن :علم والوں سے سوال کرو اگر تم نہیں جانتے (النحل :٤٣)

اپنے دل سے فتوی لو ،یہ حدیث اس کیلئے ہے ،جو عالم ،فقیہ ،مبصر ،ماھر ،متبحر ہو (اتحاف السادۃ )

فاسق کو امام بنانے والے لوگ گناہ گار ہوں گئے (غنیۃ )

کتب عقائد میں تصریح ہے ،تحلیل حرام و تحریم حلال دونوں کفر ہیں (ج ٢١،ص ١٧٥)

حدیث :جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے (ابوداؤد )

مدینہ کو یثرب کہنا ممنوع و گناہ ہے (فیض القدیر )

حدیث :جس نے ایک بار یثرب کہا وہ دس بار مدینہ ،کہے (تاریخ الکبیر للبخاری )

یہ چند آسان باتیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں ،جن سے آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ متقدمین علماء کی کتب سے کس قدر واقف تھے ،جب وہ دیکھتے کہ کئی سو سال کے علماء ایک بات لکھتے چلے آرہے ہیں ،اور اس دور کا کوئی مولوی اس کو غلط کہہ رہا ہے ،تو ان کی ایمانی غیرت انھیں اس بات پر مجبور کرتی کہ وہ اس مولوی کو تنبیہ کریں،اور اسے سلف صالحین کی راہ سے آگاہ فرمائیں ،اور حق بات تو یہی ہے کہ انھوں نے ایک غیرت مند مسلمان ہونے کا حق ادا کیا۔

چار پنجم کا سر

اب جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ انگریز کے ایجنٹ تھے ،انکے لیے چند باتیں عرض کردیتے ہیں ،وہ ہمیشہ خط کے لفافے پر ٹکٹ الٹا لگاتے اور فرماتے میں نے چارج پنجم کا سر نیچا کر دیا ہے۔

آپ کو انگریز کمشنر نے ٣٥ مربع زمین کی آفر دی، تو آپ نے کہا انگریز اگر اپنی ساری حکومت بھی دے دے تو بھی ،میراایمان نہیں خرید سکتا ،آپ کو انگریز عدالت نے طلب کیا تو ،آپ نے فرمایا :میں انگریز حکومت کو ہی تسلیم نہیں کرتا تو اس کے عدل و انصاف کو کیسے تسلیم کروں(مقالات سعیدی) 

انگریز کیا وہ تو ہر کافر کے سخت دشمن تھے ،چند مثالیں فتاوی رضویہ سے دیکھیں :کافر سے دوستی حرام ہے (ج٢١،ص١٢٥)

کافر مشرک کا کوئی عمل اللہ کیلئے نہیں ہوسکتا(ج٢١،ص ١٢٠)

کفار کا مجمع محل لعنت ہے ،اس سے دوری میں ہی خیر و سلامتی ہے (ج٢١،ص ١٦٠)

مقامات کفار پر ہر وقت خدا کی لعنت برستی ہے (ج٢١،ص١٦٠)

مقامات کفارکے قریب سے بھی جب گزرنا پڑے تو جلدی سے گزر جائے آثار میں یہی وار ہواہے (ج٢١،ص ١٦٠)

جس نے کفار کے کسی امر کو اچھا جانا اس نے کفر کیا (ج٢١،ص ١٥٩)

معبد کفار میں جانا گناہ ہے(ج٢١،١٥٩)

یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہونا مکروہ تحریمی ہے (البحر الرائق )

کفار کی عبادت گاہ میں نماز حرام ہے (رد المحتار)

 جس نے کفار کے کسی کام کو اچھا کہا اس نے کفر کیا (غمز العیون )امید ہے اس سے اطمینان قلب ہوگیا ہوگا ۔والسلام احسان اللہ قادری

دوسری تحریر بھی ایسی ہی لکھی تھی
ہر طرف جھوٹے الزامات کی برسات ہے ،کوئی کہتا ہے وہ انگریز کے ایجنٹ تھے ،کوئی کہتا ہے وہ فتوی لگانے والے تھے ،جس کے دل میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے ،لوگ بھی مان لیتے ہیں ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے ،کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے ؟انھیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے ؟ اس کا جواب ہر ذی شعور یہی دے گا کہ دو جرم ایسے ہیں ،جن کی یہ سزا ہوسکتی ہے ،پہلا جرم: حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہ کرنا ،دوسرا جرم:سلف صالحین کی سختی سے خودپیروی کرنا اور لوگوں کو بھی آمادہ کرنا ،پہلا جرم توآپ سب کے سامنے ہے ،کہ انھوں نے اپنے زمانے کے مشہور و معروف لو گوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ،جن کے ہزاروں چاہنے والے تھے ،دوسرے جرم کے بارے میں اکثر لوگ نہیں جانتے ،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کوپہلے ان کا تعارف کروا دوں ،امام احمد رضا ایک ایسے مستند عالم دین تھے ،جو ہر بات معتبر کتب کے حوالے سے لکھتے تھے ،آپ ان کے فتاوی رضویہ کی ٣٠ جلدیں پڑھ لیں ،آپ کو تقریبا ہر بات ہی کسی مستند کتاب کے حوالے کے ساتھ ملے گی ،بلکہ وہ ہر کتاب کی اصل عبارت (عربی یا فارسی )زبان میں ساتھ تحریر فرماتے تھے ،میں آپ کے سامنے ان کے فتاوی سے چند باتیںآسان الفاظ میںحوالہ کتب کے ساتھ نقل کرتاہوں ،ان سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کا معلومات کتنی وسیع تھی ، حدیث :جو چیز بدھ کے دن شروع کی جائے و ہ اتمام کو پہنچتی ہے(کشف الخفائ)روایت حدیث کے دو طریقے ہیں روایت باللفظ ،روایت بالمعنی ،حضور نے خود تحدیث بالمعنی کی اجازت فرمائی ،(ج٢٧،ص٤٩)حضرت عمر ؓ نے صبیغ بن عسل سے مسلمانوں کو سلام وکلام کرنے سے منع فرمادیا ،کیونکہ وہ لوگوں سے متشابھات قرآن کے متعلق سوالات کرتا تھا (تھذیب تاریخ دمشق )پانچ چیزوں کی حفاظت کیلئے اللہ تعالی کی شریعت ہے ،دین ،عقل ،نسب ،نفس، مال ،(فالتو کام کے سوا تمام افعال ان ہی میں گھومتے ہیں )(ج٢١،ص ٢٠٥)حدیث :ابتداء زمانہ رسالت میں گھروں میں چراغ بھی نہیں ہوتے تھے (بخاری ،مسلم)حدیث :جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے ،تو رب غضب فرماتا ہے ،اور عرش الہی ہل جاتا ہے (مسند ابو یعلی)جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے (الاشباہ والنظاہر )ہندو ،مسلم اتحاد نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآن میں ہے :میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ (ج٢١،ص ١٦٨)غیر عالم کو حکم ہے علماء سے سوا ل پوچھے :قرآن :علم والوں سے سوال کرو اگر تم نہیں جانتے (النحل :٤٣)اپنے دل سے فتوی لو ،یہ حدیث اس کیلئے ہے ،جو عالم ،فقیہ ،مبصر ،ماھر ،متبحر ہو (اتحاف السادۃ )فاسق کو اگر امام بنایا تو لوگ گناہ گار ہوں گئے (غنیۃ )کتب عقائد میں تصریح ہے ،تحلیل حرام و تحریم حلال دونوں کفر ہیں (ج ٢١،ص ١٧٥)جس نے کفار کے کسی کام کو اچھا کہا اس نے کفر کیا (غمز العیون )یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہونا مکروہ تحریمی ہے (البحر الرائق )کفار کی عبادت گاہ میں نماز حرام ہے (رد المحتار)حدیث :جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے (ابوداؤد )مدینہ کو یثرب کہنا ممنوع و گناہ ہے (فیض القدیر )حدیث :جس نے ایک بار یثرب کہا وہ دس بار مدینہ ،کہے (تاریخ الکبیر للبخاری )یہ چند آسان باتیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں ،جن سے آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ متقدمین علماء کی کتب کا مطالعہ کس قدر کرتے تھے ،جب وہ دیکھتے کہ نو سو سال کے علماء ایک بات لکھتے چلے آرہے ہیں ،اور اس دور کا کوئی مولوی اس کی مخالفت کررہا ہے ،تو ان کی ایمانی غیرت انھیں اس بات پر مجبور کرتی کہ وہ اس مولوی کو تنبیہ کریں،اور اسے سلف صالحین کی راہ سے آگاہ فرمائیں ،اور حق بات تو یہی ہے کہ انھوں نے ایک غیرت مند مسلمان ہونے کا حق ادا کردیا ،اب جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ انگریز کے ایجنٹ تھے ،انکے لیے چند باتیں عرض کردیتے ہیں ،وہ ہمیشہ لفافے پر ٹکٹ الٹا لگاتے اور فرماتے میں نے چارج پنجم کا سکر سر نیچا کر دیا ہے ،آپ کو انگریز کمشنر نے ٣٥ مربع زمین کی آفر دی تو آپ نے کہا انگریز اگر اپنی ساری حکومت بھی دے دے تو بھی میراایمان نہیں خرید سکتا۔

مزید یہ بھی پڑھیے:

COMMENTS

BLOGGER: 1
  1. Aslam o Alaikum.......bhai ehsan bohat acha likha hai ap na .....ap sa aik question hai ka kya fatava razviya pa main apna amal ki bunyad rakhon to ya thick ho ga kya????!....i mean agar sirf fatava razviya follow karoon to munasib hai kya.....plz reply kijye ga tafseel main

    جواب دیںحذف کریں

نام

Audio-mp3,2,biography-urdu,14,books-intro,9,current-affairs,9,hadeesurdu,18,islamic-quotes-urdu,2,islamic-wallpapers,7,mazameen,25,meaning-urdu,4,my-diary,9,na-mukamal,12,sawaljawab,86,tafseer-ehsani,6,waqiat,4,wazifa-urdu,5,
rtl
item
Info in urdu: اعلی حضرت بریلوی اور ان کا فتاوی رضویہ
اعلی حضرت بریلوی اور ان کا فتاوی رضویہ
اعلی حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کا تعارف اور ان کے فتاوی رضویہ سے سو سے زائد اقتباسات
Info in urdu
https://www.ehsanullahkiyani.com/2023/02/ala-hazrat-barelvi-aur-un-ka-fatawa-rizvia.html
https://www.ehsanullahkiyani.com/
https://www.ehsanullahkiyani.com/
https://www.ehsanullahkiyani.com/2023/02/ala-hazrat-barelvi-aur-un-ka-fatawa-rizvia.html
true
3608222135359615950
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content