سوال:
اذان كا جواب كیسے دیا جاتا ہے، صبح کی اذان کا جواب کیسے دیں گے؟ جمعہ کی دوسری اذان کا جواب دینا چاہیے یا نہیں؟ اذان کا جواب دینے کا حکم کیا ہے، کیا یہ واجب ہے یا مستحب ہے؟ محلے میں بہت سی مساجد ہو تو ان میں سے کس مسجد کی اذان کا جواب دینا چاہیے؟ کیا عورت کو بھی اذان کا جواب دینا چاہیے؟ تلاوت میں مشغول شخص کیلئے اذان کا جواب دینے کا حکم کیا ہے؟ اذان کا جواب دینے کی فضیلت کیا ہے؟ ہم تمام سوالوں کے جوابات بالترتیب احسان اللہ کیانی ڈاٹ کام پر دے رہے ہیں۔
جواب:
اذان کا جواب دینے کا طریقہ یہ ہے کہ موذن جو بھی کلمات کہے آپ اسی کو دہراتے جائیں
حدیث شریف میں ہے:
إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ
ترجمہ:
جب تم موذن کو سنو تو وہی کلمات دہرا دو جو وہ کہتا ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ، باب القول مثل قول الموذن )
مثال کے طور پر موذن کہے
اللہ اکبر اللہ اکبر
آپ بھی یہی الفاظ دہرا لیں
موذن کہے
اشھد ان لا الہ الا اللہ
آپ بھی یہی دہرا لیں
بس صرف جب موذن حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہے
اس وقت آپ نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہنا ہے، ممکن ہو تو حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کے کلمات بھی دہرا لیں۔
صبح کی اذان کا جواب دینے کا طریقہ
فجر کی اذان کا جواب دینے کا طریقہ بھی یہی ہے، بس صرف جب موذن الصلوۃ خیر من النوم کہے گا تو آپ نے کہنا ہے، صَدَقْتَ وَ بَرَرْتَ
جمعہ کی دوسری اذان کا جواب
جمعہ کی دوسری اذان جو خطبہ سے پہلے ہوتی ہے، اس کا جواب نہیں دینا چاہیے، اس اذان کو خاموشی سے سننا چاہیے، اس کا حکم جمعہ کی خطبے والا ہی ہے، البتہ امام کو جواب دینے کی اجازت ہے۔
اذان کا جواب دینے کا حکم
اذان کا جواب دینا واجب بھی ہے اور مستحب بھی ہے، اذان سن کر اس کا عملی جواب دینا، یعنی نماز پڑھنا یہ واجب ہے اور اذان کے کلمات کے ذریعے اس کا زبانی جواب دینا یہ مستحب ہے۔
کس اذان کا جواب دیں
اگر آپ کے محلے میں بہت سی مساجد ہیں تو اگر ممکن ہو تو تمام کا جواب دیں، ورنہ صرف پہلی کا جواب دے دینا کافی ہے۔
عورت اور اذان کا جواب
جو عورت اذان سنے، اسے بھی جواب دینا چاہیے،نیچے اس کے متعلق حدیث بھی آرہی ہے۔
اقامت کا جواب
اذان کی طرح اقامت کا جواب بھی دینا چاہیے، اقامت کا جواب دینے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام کلمات اسی طرح دہرایں، البتہ قد قامت الصلوۃ کے جواب میں أَقَامَهَا اللّٰهُ وَ أَدَامَهَا کہیں۔
تلاوت کے وقت جواب
جو شخص تلاوت قرآن میں مصروف ہو اسے چاہیے کہ وہ تلاوت قرآن موقوف کرکے اذان سنے اور اس کا جواب دے۔
اذان کا جواب دینے کی فضیلت
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے جو خلوص دل سے اذان کا جواب دے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
امام طبرانی کی معجم کبیر میں ہے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں اور عورتوں کی صف کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا، اے عورتوں کی جماعت ! جب تم اس حبشی شخص کی اذان اور اقامت سنو تو یہ جیسے کہتا ہے ویسے ہی کہو، کیونکہ تمہارے لیے اس کے ہر ہر حرف کے بدلے ہزار ہزار درجے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یارسول اللہ یہ فضیلت تو خواتین کیلئے ہے، مردوں کیلئے اذان کا جواب دینے کی فضیلت کیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں کیلئے اس سے دگنا اجر ہے۔
مزید معلومات کیلئے وزٹ کریں
احسان اللہ کیانی ڈاٹ کام
یہ بھی پڑھیے:
COMMENTS