رسول اللہ ﷺ کی معراج جسمانی تھی یا روحانی ؟ || Meraj un Nabi jismani thi ya roohani || Question about meraj un nabi urdu

معراج النبی کے متعلق سوال

سوال:

رسول اللہ ﷺ کی معراج جسمانی تھی یا روحانی  ؟

جواب:

رسول اللہ ﷺ کی معراج جسمانی تھی ،علامہ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں  لکھا ہے کہ امت کی اکثریت کا یہی عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی معراج جسمانی تھی  الحمدللہ پاکستان انڈیا میں  بھی بریلوی دیوبندی اکابر علماء کا اتفاق ہے کہ معراج  جسمانی تھی ۔

معراج جسمانی کے چنددلائل یہ ہیں:

۱۔         اگر یہ صرف خواب کی بات تھی تو پھر معجزہ کیسے ہوئی  کیونکہ خواب میں تو کوئی بھی شخص کچھ بھی کر سکتا ہےجبکہ اس کے برعکس  معجزہ تو وہ ہوتا ہے جو کوئی دوسرا کرنے پر قادر نہیں ہوتا ۔

۲۔        اگر یہ معاملہ صرف خواب کا ہوتا تو کفار مکہ  اسے ماننے میں  ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتےحالانکہ انہوں نے تو حضور ﷺ سے بیت المقدس کے متعلق بہت سے سوالات بھی کیے ،اللہ تعالی نے بیت المقدس کو حضور ﷺ کے سامنے کر دیا اور آپ نے دیکھ کر سب کچھ بتا دیا بلکہ یہ واقعہ تو اتنا حیرت انگیز تھا کہ  بہت سے  کمزورمسلمانوں کو اس پر یقین نہیں آیا اور وہ مرتد ہو گئےجبکہ اس کے برعکس  اس کی تصدیق کرنے پر ہی  حضرت ا بو بکر کو صدیق کا ٹائٹل ملا  تھا۔

۳۔        یہ سفر براق پر ہوا ، اگر یہ صرف روحانی سفر تھا تو براق کی کیا ضرورت تھی ۔

۴۔        اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جب اس سفر کو ذکر فرمایا ہے  تو لفظ سبحان ارشاد فرمایا ہے ،اگر  یہ خواب کا معمولی واقعہ تھا تو یہاں لفظ سبحان استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ،اسی طرح معراج کے تذکرے میں لفظ عبد کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ جسم اور روح دونوں کے مجموعے پر بولا جاتا ہے ۔

۵۔        قرآن کریم نے فرمایا  معراج کے تذکرہ میں فرمایا ہے کہ جو آنکھ نے دیکھا دل نے اس کو جھٹلایا نہیں  اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو وہاں آنکھ سے دیکھنے کا ذکر نہ ہوتا کیونکہ خواب میں آنکھ نہیں دیکھتی ۔

ایک مسلمان کو یہی عقیدہ رکھنا تھا ،اس میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان کا اظہار بھی ہے اور سائنسی ترقی کے اس دور میں یہ ایسا معجزہ ہے جس کے سامنے سائنس بھی سرجکھائے کھڑی ہے ۔

از

احسان اللہ کیانی





کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.