سر کا مسح کرنے کا طریقہ || Sar ka masah karne ka tarika

سوال:
کیا نبی کریم ﷺ سے وضو میں مسح کرنا ثابت ہے؟ اگر ہاں تو کتنی مرتبہ کرنا ثابت ہے اور سر کا مسح کرنے کا مکمل طریقہ کیا ہے ؟


جواب:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سر کا مسح کرنا ثابت ہے، اس حوالے سے صحیح بخاری کی یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :


Hadees about sar ka masah 

ان النبی مسح راسہ بیدہ و اقبل بھما و ادبر مرۃ واحدہ
ترجمہ:
نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے سر کا مسح کیا آپ ایک مرتبہ اسے آگے لے کر گئے اور پھر پیچھے لے گئے۔


اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سر کا مسح ایک مرتبہ کرنا چاہیے


سر کا مسح کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ | Sar ka masah karne ka tarika kia hai 

اس حوالے سے فقہ حنفی کی مشہور کتاب فتاوی عالمگیری میں ہے:

وضو کرنے والا اپنی ہتھیلیوں اور انگلیوں کو سر کے اگلے حصے پر رکھے اور انہیں پھیلا کر پیچھے لے آئے اور پھر اپنے کانوں کا مسح کر لے

یاد رہے کہ سر کا مسح کرتے وقت ہاتھ کا تر ہونا ضروری ہے اور فقط چوتھائی سر کا مسح ہی وضو میں فرض ہے البتہ پورے سر کا مسح کرنا سنت ہے۔

از
احسان اللہ کیانی

اس حوالے سے مزید کوئی سوال ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.