Namaz ki niyat ka tarika -10 important sawal || نماز کی نیت کا طریقہ دس اہم سوال

Namaz ki niyat ka tarika -10 important sawal

اگر آپ نے اس پوسٹ کو ایک مرتبہ مکمل پڑھ لیا تو میں شرطیہ کہتا ہوں، نماز کی نیت کے حوالے سے آپ کے ذہن میں جتنے بھی سوال ہیں، آپ کو ان سب کا جواب مل جائےگا، مثلا آپ کو پتا چل جائےگا کہ ہم نماز میں نیت کیوں کرتے ہیں، زبان سے نیت کرنا لازمی ہے یا نہیں، ایک نماز کی نیت کرتے ہوئے دوسری نماز کا نام غلطی سے نکل جائے تو کیا ہوتا ہے، امام کے پیچھے کیسے نیت کی جاتی ہے، نیت کرتے ہوئے کیا الفاظ ادا کرنے چاہییں اور کون سے الفاظ ادا نہیں کرنے چاہییں۔

 

اس پوسٹ میں  ان دس سوالوں کے جوابات دیے گئے ہیں :

 

۱۔نماز میں نیت کیوں کی جاتی ہے ؟

۲۔ نیت زبان سے کرنا فرض ہے یا واجب ؟

۳۔فقط دل میں ہی نیت کرنا کافی ہے یا نہیں ؟

۴۔نماز کی نیت کا طریقہ کیا ہے ؟

۵۔فرض ،سنت اور نفل کی نیت میں کیا فرق ہوتا ہے ؟

۶۔امام کی اقتداء میں نیت کیسے کرتے ہیں ؟

۷۔امام کیلئے مقتدیوں کی اقتداء کی نیت کرنا ضرور ی ہے یا نہیں ؟

۸۔ نیت کرتے ہوئے اگر زبان سے غلط نماز کا نام نکل جائے تو اس کا حکم ؟

۹۔نیت کرتے ہوئے یہ کہنا فرض اللہ کے لیے ،سنت رسول اللہ کیلئے اس کا کیا حکم ہے ؟

۱۰۔امام صاحب رکوع میں جانے والے ہوں تو زبان سے نیت کرنی چاہیے یا فقط دل سے ؟

 

 

سوال نمبر ایک :

نماز میں  نیت کیوں کی جاتی ہے؟

جواب  :

نیت کرنے سے دو چیزیں مقصود ہوتی ہیں

پہلا مقصد:

 عبادت کو عادت سے ممتاز کیا جائے  مثلا ہم کھڑے تو ویسے بھی ہوتے ہیں ،دو زانوں بھی بیٹھتے ہیں لیکن نیت کی وجہ سے ہی یہ چیزیں  نماز میں  عبادت کے طور پر قیام اور قعدہ بن جاتی ہیں ۔

دوسرا مقصد:

ایک عبادت کو دوسری عبادت سے ممتاز کیا جائے مثلا ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ایک جیسی ہوتی ہیں ،نیت سے فرق ہوجاتا ہے یہ ظہر کی ہیں اور یہ عصر کی ۔

 

سوال نمبر دو:

 نیت زبان سے کرنا فرض ہے یا واجب ؟

جواب :

 نیت زبان سے کرنا نہ فرض ہے نہ واجب بلکہ یہ فقط مستحب ہے یعنی کوئی زبان سے کر لے تو ٹھیک، نہ کرے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ۔

 

سوال نمبر تین :

Namaz me sirf dil se niyat karna kesa hai

فقط دل  میں ہی  نیت کافی ہے یا نہیں  ؟

جواب :

جی فقط دل سے بھی  نیت کر لینا کافی ہے ۔

 

سوال نمبر چار

 نماز کی نیت کا  طریقہ کیا ہے ؟|| Namaz ki niyat ka tarika kia hai 

جواب :

نماز کی نیت کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کہیں  ،میں نیت کرتا ہوں   اس نماز کی ،خاص اللہ تعالی کےلیے ،دو رکعت فرض،وقتِ فجر ،منہ میرا خانہ کعبہ شریف کی طرف ،اللہ اکبر

 

سوال نمبر پانچ

فرض ،سنت اور نفل کی نیت میں  کیا فرق ہوتا ہے ؟

جواب :

فرض ،سنت اور نفل کی نیت میں کوئی فرق نہیں ہوتا جو نیت اوپر ذکر کی  گئی ہے، آپ فرض،سنت اور نفل ہر نماز میں  اسی طرح نیت کر سکتے ہیں ۔

 

سوال نمبر چھ

امام کی اقتداء میں نماز کی نیت کیسے کرتے ہیں ؟

جواب :

اگر آپ امام کے پیچھے ہوں تو  بقیہ نیت وہی رہے گی ،فقط اس جملے کا اضافہ کر لیں (پیچھے اس امام کے )۔

 

سوال نمبر سات

 امام کیلئےمقتدیوں کی امامت کی اقتداء کی نیت کرنا ضروری ہے ؟

جواب :

امام کیلئے مقتدیوں کی امامت کی نیت کرنا لازمی  نہیں ہے یعنی اگر امام نیت نہ بھی کرے تو بھی جو اس کی اقتداء  میں نماز ادا کرے گا اس کی نماز جائز ہوگی البتہ امام کیلئے بھی مستحب ہے کہ وہ مقتدیوں کی امامت کی نیت کر لے ۔

 

سوال نمبر آٹھ  

 اگر  نیت کرتے ہوئے زبان سے غلط نماز کا نام نکل جائے تو کیا حکم ہو گا  ؟

جواب :

اگر زبان سے غلط نماز کا نام بھی نکل جائے تو بھی کچھ نہیں ہوتا ،دل میں جس کا پختہ ارادہ تھا ،اسی کا اعتبار ہوگا۔

 

سوال نمبر نو

 نیت کرتے ہوئے یہ کہنا کیسا ہے ،فرض اللہ کے لیے ،سنت رسول اللہ کے لیے اور نفل اپنے لیے ؟

جواب :

یہ کہنا درست نہیں  ہے کیونکہ یہ سب نماز یں ہم اللہ تعالی کے لیے ہی پڑھتے ہیں ،اسی لیے یہی کہنا چاہیے ،خاص اللہ تعالی کے لیے  میں یہ نماز پڑھتا ہوں۔

 

سوال نمبر دس

اگر  امام صاحب قرآت مکمل کرکے رکوع میں جانے والے ہوں تو کیا ہمیں پہلے زبان سے  نیت کرنی چاہیے یا فقط دل والی نیت پر  ہی نماز میں شامل ہوجانا چاہیے ؟

جواب :

ایسی صورت میں کیونکہ نماز کی رکعت نکلنے کا خوف ہے تو اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ سکون اور اطمینان کے ساتھ دل کی نیت کے ساتھ ہی جماعت میں شامل ہو جائیں ۔بہت سے مسلمان ایسے ہوں گے جنہیں نماز کی نیت کے حوالے سے یہ باتیں نہیں معلوم ہوں گی،اس لیے ثواب کی نیت سے یہ پوسٹ ان تک بھی پہنچا دیں 

طالب دعا

احسان اللہ کیانی 





کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.