--> روزے کے فضائل اور روزے کے آداب

روزے کے فضائل اور روزے کے آداب

روزے کے فضائل اور روزے کے باطنی آداب

تحریر:

احسان اللہ کیانی
روزے کے فضائل احادیث مبارکہ میں بے شمار بیان کیے گئے ہیں ،علماء کرام کی اس پر مستقل کتابیں ہیں ،ہم آپ کے سامنے چند احادیث مبارکہ اور چند آداب کو بیان کریں گے تاکہ آپ رمضان میں خواب ثواب کما سکیں اور جو روزے سے مقصود ہے اسے حاصل کر سکیں۔

روزہ نصف صبر ہے :
حدیث میں ہے
الصوم نصف الصبر
(روزہ نصف صبر ہے )
(ترمذی ،ابن ماجہ )

روزہ نصف ایمان ہے :
دوسری حدیث میں ہے
الصبر نصف الایمان
(صبر نصف ایمان ہے )
(حلیۃ الاولیاء ،خطیب فی التاریخ )

ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ روزہ ایمان کا چوتھائی حصہ ہے۔

 

صوم کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی نسبت اپنے طرف کی ہے اور فرمایا
اللہ ہی روزے کی جزا دے گا :
حدیث میں ہے
الصیام لی وانا اجزی بہ
(روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا )
(بخاری ،مسلم )

روزہ کے بارے میں ابھی آپ نے حدیث ملاحظہ فرمائی کہ روزہ نصف صبر ہے آئیے اب ہم صبر کی جزا دیکھتے ہیں
صبرکرنے والوں کا اجر:
قرآن کریم میں ہے
انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب

ترجمہ:
(بے شک صبرکرنے والوں کو ان کے اجر کا بدلہ بے حساب دیا جائے گا )
(الزمر: ١٠)

روزے کے بارے میں ایک عجیب فضیلت :
حدیث شریف میں ہے
والذی نفسی بیدہ لخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک
(قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیز ہ ہے)
(بخاری ،مسلم )
جب منہ کی بو یہ فضیلت رکھتی ہے تو خود روزہ دار کا کیا مقام ہو گا

جنت کا ریّان نامی دروازہ :۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی نے روزے داروں کو ایک خاص اہمیت دی ،ان کے لیے جنت میں داخلے کے لیے ایک خاص دروازہ مقرر کر دیا ،جس سے وہ جنت میں داخل ہو ں گے
حدیث میں ہے
للجنۃ باب یقال لہ ریان لایدخلہ الاالصائمون
(جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریّان ہے اس سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے
(بخاری ،مسلم )

اللہ تعالی کی ملاقات کا وعدہ :
روزے کی جزا میں ان سے ایک خاص وعدہ کیا گیا ہے
حدیث میں ہے
وھو موعود بلقاء اللہ تعالی فی جز ء صومہ
(روزے کی جزا میں ان سے اللہ تعالی کی ملاقات کا وعدہ کیا گیا ہے)
(بخاری ،مسلم )

روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں:
حدیث میں ہے
للصائم فرحتان ،فرحۃ عند افطارہ ،وفرحۃ عند لقاء ربہ
(روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ،ایک افطار کے وقت دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت )
(بخاری ،مسلم )

عبادت کا دروازہ :
انسان جب کسی گھر میں داخل ہونا چاہے تواسے اس کا دروازہ تلاش کرنا چاہیے تاکہ آسانی سے گھر میں داخل ہو جائے ،یقینا عبادت کا بھی کوئی دروازہ ہو گا
حدیث میں ہے
لکل شی باب وباب العبادۃ الصوم
(ہر شی کا ایک دروازہ ہوتا ہے اور عبادت کا دروازہ صوم ہے )
(ابن مبارک فی الزھد )

روزے دار کا سونا :
عموماسونا سستی یا غفلت کی علامت ہوتا ہے مگر روزہ دار کا تو سونا بھی عبادت ہے
حدیث میں ہے
نوم الصائم عبادۃ
(روزہ دار کا سونا بھی عبادت میں شمار ہوتا ہے )
(مسند الفردوس )

آمد رمضان پر جنت و جھنم کے دروازے :
رمضان المبارک میں اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آتی ہے اور جھنم کے تمام دروازے بند کر دیتی ہے
حدیث میں ہے
اذا دخل شھر رمضان فتحت ابواب الجنۃ وغلقت ابواب النار
(جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دے جاتے ہیں اور جھنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں )
(ترمذی ،ابن ماجہ )

رمضان میں شیاطین :۔۔۔۔۔۔
اکثر انسان شیاطین ہی کی وجہ سے گناہوں میں ملوث ہو جا تا ہے ،رمضان میں اللہ تعالی مسلمانوں کو شیاطین کے فتنوں سے بھی محفوظ فرما دیتا ہے
حدیث میں ہے
صفدت الشیاطین
(رمضان میں شیاطین کو قید کر دیا جا تا ہے )

رمضان میں منادی کی پُکار:
رمضان میں ایک منادی خیر و شر کے طالبین کو پکار پکار کر کہتا ہے
حدیث میں ہے
ونادی مناد ،یا باغی الخیر ھلم،ویا باغی الشر اقصر
(ایک منادی ندا دیتا ہے اے خیر کے طالب آجا ،اوراے شر کے طالب باز آجا )

فرشتوں کے سامنے روزے دار کی شان :
آپ کو معلوم ہے جب اللہ تعالی نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنانا چاہا تو فرشتوں نے عرض کی تھی اے اللہ کیا تو ان لوگوں کو زمین کا خلیفہ بنائے گا جو زمین میں فساد و قتل عام کریں گے ،اللہ تعالی نے فرمایا تھا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے

حدیث میں ہے
اللہ تعالی رمضان میں فرشتوں سے فرماتاہے ،اے میرے فرشتو! میرے اس بندے کی طرف دیکھو ،جس نے اپنی شھو ت ،لذت ،طعام و شراب سب کچھ میرے لیے چھوڑ دیا

روزہ اخلاص پر مبنی و ریاء سے پاک ہے :
روزے کی دیگر عبادات سے افضل ہونے کی ایک وجہ یہ ہے ،کہ یہ اللہ تعالی اور بندے کے درمیان ایک خفیہ معاملہ ہے ،روزے دار کی تکلیف ،بھوک ،پیاس کو ئی دوسرا شخص محسوس نہیں کر سکتا،یہ سراسر اخلاص پر مبنی اور ریاکاری سے پاک ہے

روزہ شیطان پر قہر و شھوت کو کم کرنے والا ہے :
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ شیطان پر قہر ہے ،کیونکہ عموما شیطان شھوت ہی کے ذریعے انسان کو گناہوں میں ملوث کرتا ہے ،اور شھوت کھانے ،پینے سے قوی ہوتی ہیں شیطان تو انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اس سے بچنے کا طریقہ
حدیث میں ہے
ان الشیطان لیجری من بنی آدم مجری الدم
(بے شک شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کر تا ہے )
(بخاری ،مسلم )
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بھوک و پیاس کے ذریعے شیطان کے راستے کو تنگ کردیں

بھوک کی فضیلت :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا :ہمیشہ بھوک کے ساتھ جنت کا دروازہ کھٹکٹاتی رہو

روزہ میرے لیے ہے:
روزے سے اللہ کا دشمن شیطان ذلیل و خوار ہو جاتا ہے ،اس کے راستے تنگ ہو جاتے ہیں ،اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا روزہ میرے لیے ہے

ہر مقام کوشش سے ملتا ہے :
بےشک ہر مسلمان کا روزے سے مقصود نیکی و تقوی کا حصول ہے ،اسی لیے وہ روزے کی مشقت اٹھاتا ہے ،رحیم و کریم رب کوشش کرنے پر عطا فرماتا ہے

قرآن کریم میں ہے
والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا
(جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور ان کے لیے بہت سی رائیں پیدا کر دیں گے )
(عنکبوت ٦٩)

خود اپنی حالت کو بدلنا ہے :۔
بہت سے لوگ نیک ہونے کی تمنا کرتے ہیں مگر اس کے لیے کوشش و محنت نہیں کرتے ،ان کو کبھی مقصود حاصل نہیں ہو گا
قرآن کریم میں ہے
ان اللہ لایغیرو ا ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم
(اللہ تعالی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا ،جب تک وہ خود اپنی حالت کو تبدیل نہ کریں )

راہ خدامیں مشکلات کا صلہ :۔۔۔۔۔۔
انسان جب نیکی کی راہ پر چلتا ہے ،تو اسے بہت سے مشکلات آتی ہیں ،بہت سے لذیذ چیزیں چھوڑنی پڑتی ہیں ،مگر اسے اس سے بھی زیادہ لذیذ چیزیں ملتی ہیں
حدیث میں ہے
لولا ان الشیاطین یحومون علی قلوب بنی آدم لنظروا الی ملکوت السماء
(اگر شیاطین تمہارے قلوب پر منڈلاتے نہ رہتے تو تم ضرور ملکوت السماء کو دیکھتے)

الحمد اللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ
روزے کے باطنی آداب :
روزہ کے چند فضائل بیان ہو چکے اب ہم روزے کے چند آداب بیان کرتے ہیں

روزے کے تین درجے ہیں :
ادنی درجہ :
کھانے ،پینے ،جماع سے رکنا ۔
درمیانہ درجہ :
کھانے پینے ،جماع سے رکنا ،آنکھ ،کان ،ناک ،زبان ،ہاتھ ،پاؤں تمام اعضاء کو گناہوں سے روکنا ۔
اعلی درجہ :
کھانے ،پینے اور جماع سے رکنا ،جسم کے تمام اعضاء کو گناہوں سے بچانا ،دل کو تمام فکروں سے روکتے ہوئے ہر وقت اللہ تعالی کی طرف متوجہ رہنا ۔

روزے میں ان امور کا لحاظ ضروری ہے :
(١)نظر کی حفاظت :
نظرکو جھکا کر رکھے ،ہر مذموم و مکروہ بلکہ ہر ایسی چیز سے جو اللہ تعالی کی یاد سے غافل کر دے ۔

رمضان میں ٹی وی کے پروگرام :۔۔۔۔۔۔
ہمارے زمانے میں ٹی وی پر اداکار،وگلوکار رمضان میں اسلامی پروگرام کرتے ہیں ،جس میں عورتیں بے پردہ ہوتی ہیں ،یہ لوگ خوب مذاق کرتے ہیں ،ان کے پروگرام دیکھنے سے روزہ بے برکت وبے نور ہو جائے گا

بدنظری شیطان کا تیر ہے :
آپ کو نظر کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے ہو گا
النظرۃ سھم مسموم من سھام ابلیس
نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک زہر میں بجھا ہوا تیر ہے
(مستدرک )

بدنظری سے بچنے کا اجر :
اگر کوئی شخص یہ قربانی دے کہ اپنی نظرکو ہر غیر محرم سے بچائے ،گناہ و زنا والی چیزوں کی
طرف نہ دیکھے تو اسے کیا ملے گا ،یہ جاننے کے لیے یہ حدیث مبارکہ پڑھیں
من ترکھا خوفا من اللہ اتاہ اللہ عزوجل ایمان یجدحلاوۃ فی قلبہ
جس نے بدنظری کو اللہ تعالی کے خوف سے چھوڑ دیا ،اللہ تعالی اسے ایسا ایمان عطافرمائے گا ،جس کی حلاوت وہ اپنے قلب میں محسوس کر ے گا
(مستدرک )

(٢)زبان کی حفاظت :
زبان کو لغویات ،جھوٹ ،چغلی ،غیبت ،ہر بے حیائی کی بات سے بچائے

زبان کو گناہ سے بچانے کا طریقہ :
اکثر خاموش رہے ،ہر وقت ذکر اللہ و تلاوت قرآن و حصول علم دین میں مشغول رہے

روزہ ڈھال ہے :
جب کوئی شخص کسی سے لڑتا ہے تو اسے اپنے بچاؤ کے لیے ڈھال کی ضرورت ہوتی ہے ،ہمیں بھی شیطان سے لڑنے کے لیے ڈھال کی ضرورت ہے
حدیث میں ہے
انما الصوم جنۃ
بےشک روزہ ڈھال ہے
(بخاری ،مسلم )

روزہ جوڈھال کا کام کرے  کیسا ہو نا چاہیے
حدیث میں ہے
فاذا کان احدکم صائما فلایرفث ولایجھل
جب کوئی روزہ دار ہو تو بے ہودگی و نادانی کی باتوں سے بچے
(بخاری ،مسلم )

روزہ دار کو کوئی گالی دے تو
اگر کوئی شخص ہم سے بے ہودگی کی باتیں کرے ،گالیاں دے ،غصہ دلائے تو ہم کیا کریں
حدیث میں ہے
وان امرء قاتلہ او شاتمہ فلیقل انی صائم
اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے یا گالی دے تو وہ کہہ دے میں روزے دار ہوں (میں تم سے لڑائی نہیں کروں گا )
(بخاری ،مسلم )

(٣)کانوں کی حفاظت
اپنے کانوں کو ہر مکروہ چیز کے سننے سے بچائے

ایک اہم قاعدہ :
کیونکہ یہ قاعدہ و اصول ہے کہ
کل ماحرم قولہ حرم الاصغاء الیہ
ہر وہ چیز جس کا کہنا حرام ہے اس کو سننا بھی حرام ہے

گناہ کی بات سے منع کردیں
یاد رکھیں غیب ،چغلی گناہ ہیں جب کوئی آپ کے سامنے غیبت کرنا چاہے آپ اسے منع کردیں تاکہ آپ گناہ گار نہ ہوں

غیبت سننابھی حرام ہے
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
السکوت علی الغیبۃ حرام
غیبت پر خاموش رہنا حرام ہے

جوگناہ سے روک نہیں سکتا کیونکہ گناہوں سے روکنا ہر مسلمان پر لازم ہے ،اگر روک نہیں سکتا تو اس مجلس سے دور ہو جائے
قرآن کریم میں ہے
جب تم سن لو کہ اللہ کی آیات کا انکار یا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو
مزید فرمایا کہ اگر تم ان کے ساتھ اس حالت میں بیٹھے رہو گے
انکم اذا مثلھم
اس وقت تم بھی ان کی مثل ہو گے
(النساء ١٤٠)
یعنی جب تک لوگ گناہ میں ملوث ہیں ،ان کے ساتھ نہ بیٹھو ،انھیں منع کرو ،انھیں اس کام سے روک دو ۔

برائی سے منع کرو :
حدیث میں ہے
برائی دیکھو تو ہاتھ سے رو ک دو ،یہ نہیں کر سکتے تو زبان سے منع کرو،اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو دل میں برا سمجھو ،پر یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے

یھودی و نصاری کے علماء کیا کرتے تھے
اللہ تعالی نے یھود و نصاری کے علماء کی مذمت فرمائی کہ وہ بہت برا کرتے تھے کہ اپنے لوگوں کو گناہ سے نہیں روکتے تھے ۔

قرآن کریم میں ہے
لولا ینھاھم الربانیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت لبئس ما کانوا یصنعون
کیوں نہیں علماء اور احبار ان کو جھوٹ اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ،یہ ان کا منع نہ کرنا بہت ہی برا ہے
(المائدۃ ٦٣)

غیبت سننے والا بھی گناہ گار ہے
یاد رہے کہ غیبت سننے والے بھی گناہ گار ہوتے ہیں

حدیث میں ہے
المغتاب والمستمع شریکان فی الاثم
غیبت کرنے والا اور سننا والا دونوں گناہ میں شریک ہیں
(طبرانی)

(٤)تمام اعضاء کی حفاظت
ؒجسم کے ہر عضو کو گناہ سے روکے ،ہاتھ ،پاؤں سے کوئی گناہ نہ ہونے پائے ۔
زبان کو گناہ سے بچائے
زبان سے کسی کا دل نہ دکھے ،کسی کی غیبت نہ ہو ،کسی کو گالی نہ دے ،جھوٹ نہ بولے ۔
کان کو گناہ سے بچائے

کان سے گانے نہ سننے ،بے ہودہ باتیں نہ سنے ،غیر محرم کی آواز نہ سنے ۔

آنکھ کو گناہ سے بچائے
آنکھ سے فلم ،ڈرامہ ،غیرمحرم کو نہ دیکھے ۔

دل و دماغ کو گناہ سے بچائے
دل و دماغ میں برے خیالات نہ آنے دے ،آجائیں تو فورا توجہ کسی دینی کام میں لگا دے ۔

پیٹ کو گناہ سے بچائے
خصوصاپیٹ کو حرام مال سے روکے ،افطاری کے وقت ہر گز حرام مال نہ استعمال کرے ،کیونکہ یہ کتنی بری بات ہے کہ سارا دن حلال مال سے بھی رکا اور اب حرام میں پڑ گیا

حرام زہر کی مثل ہے
حرام کی مثال زہر کی طرح ہے ،جیسے زہر انسان کو ہلاک کر دیتا ہے اسی طرح حرام ان کے دین کے لیے مھلک ہے ۔

حلال دوائی کی مثل ہے
حلال کی مثال دواء کی طرح ہے ،جس کی تھوڑی مقدار تو فائدہ دیتی ہے زیادہ مقدار نقصان دیتی ہے ،یعنی اگر پیٹ بھر کر کھائیں گے تو پھر شھوت بھی قوی ہو جائے گی ۔

روزہ فقط بھوک پیاس کا نام نہیں
روزے کے معاملے میںبہت احتیاط کرنی چاہیے ،کیونک روزہ فقط بھوکے ،پیاسے رہنے کا نام نہیں۔ کیونکہ
حدیث میں ہے
کم من صائم لیس لہ من صومہ الا الجوع والعطش
کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جن کا روزہ صرف بھوک و پیاس ہی ہے
(نسائی ،ابن ماجہ)

اس حدیث سے یا تو وہ لوگ مراد ہیں جو حرام سے روزہ افطار کرتے ہیں،یا وہ جو غیبت کر کے اپنا روزہ توڑ دیتے ہیں، یا وہ جو اپنے جسم کو گناہوں سے نہیں بچاتے

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین
چند فوائد بھی مکمل ہوئے اللہ تعالی اس خدمت کو قبول کرے ،اور مزید اپنے دین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے
طالب دعا احسان اللہ کیانی
Ghulamenabi786@gmail.com
٭٭٭٭

 مزید یہ بھی پڑھیے:

کھانے کے آداب

محرم کے حوالے سے چند سوال 

COMMENTS

نام

Audio-mp3,2,biography-urdu,2,books-intro,6,current-affairs,2,hadeesurdu,8,islamic-wallpapers,5,mazameen,8,meaning-urdu,3,sawaljawab,56,tafseer-ehsani,10,wazifa-urdu,4,
rtl
item
Info in urdu: روزے کے فضائل اور روزے کے آداب
روزے کے فضائل اور روزے کے آداب
Info in urdu
https://www.ehsanullahkiyani.com/2022/04/roze-k-fazail-aur%20roze%20k%20adab%20.html
https://www.ehsanullahkiyani.com/
https://www.ehsanullahkiyani.com/
https://www.ehsanullahkiyani.com/2022/04/roze-k-fazail-aur%20roze%20k%20adab%20.html
true
3608222135359615950
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content