کیا اسلام میں جمعرات کی کوئی اہمیت ہے ؟ || Importance of Thursday in islam urdu

کیا اسلام میں جمعرات کی کوئی اہمیت ہے ؟ || Importance of Thursday in islam

جمعرات کی فضیلت سے متعلق اہم سوال 

سوال :

میں ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں ، میرے دادا ابو جمعرات کے دن کو بڑی اہمیت دیتے ہیں ، میں نے ان سے بہت مرتبہ پوچھا ہے کہ آپ اس دن کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں وہ کبھی بھی اس کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکے ،میں نے  بھی آج دن تک اس حوالے سے کبھی کوئی حدیث وغیرہ نہیں سنی،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اسلام میں جمعرات  کے دن کی کوئی اہمیت  ہے یا صرف مولویوں نے اسے اپنے پیٹ کی خاطر اہم بنالیا  ہے ؟

برائے مہربانی وضاحت فرما دیں ۔

جواب:

مولوی حضرات تو آج کل بلا وجہ ہی  بدنام ہوچکے ہیں ،عوام بھی ہر جرم کا ذمہ دار انہیں ٹھہرا دیتی ہے،ان بے چاروں نے ہر گز اسے خود سےاہم نہیں بنایا بلکہ دین ِ اسلام نے اس دن کو اہمیت دی ہے،میں آپ کے سامنےاحادیث مبارکہ  سے اس کی تین فضیلتیں بیان کرتا ہوں جس سے  آپ کو اس دن کی  اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔


پہلی اہمیت

جمعرات کے دن اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اس دن روزہ رکھا کرتے تھے ،حدیث شریف میں ہے:

تُعْرَضُ الأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالخَمِيسِ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِم

ترجمہ:

اعمال پیر اور جمعرات کے دن اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ،اس لیے میں پسند کرتا ہوں ،جب میرے اعمال پیش کیے جائیں ،تو میں روزہ دار ہوں ۔

(سنن ترمذی ،ابواب الصوم ،باب ما جاء فی صوم یوم الاثنین والخمیس،حدیث :747،مصطفی البابی الحلبی ،مصر)


دوسری اہمیت

اس دن جو شخص مغفرت طلب کرتا ہے اسکی مغفرت کر دی جاتی ہے ،اس دن جو شخص توبہ کرتا ہے اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے،حدیث شریف میں ہے:

 تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَمِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ، وَمِنْ تَائِبٍ فَيُتَابُ عَلَيْهِ، وَيُرَدُّ أَهْلُ الضَّغَائِنِ لِضَغَائِنِهِمْ حَتَّى يَتُوبُوا

ترجمہ :

پیر اور جمعرات کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ،جو مغفرت طلب کرتا ہے اسکی بخشش کی جاتی ہے ،جو توبہ کرتاہے ،اسکی توبہ قبول کی جاتی ہے ،کینہ رکھنے والوں کو کینہ کی وجہ سے رد کر دیا جاتا ہے ،یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں ۔

(المعجم الکبیر ،حدیث 7419،دار الحرمین ،القاھرہ)


تیسری اہمیت

اس دن  جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،اس حوالے سے حدیث شریف میں ہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ – وَتُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، إِلَّا الْمُتَشَاحِنَيْنِ، يَقُولُ اللهُ لِلْمَلَائِكَةِ: ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا

ترجمہ:

پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پیر اور جمعرات کے دن اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ،اس دن اللہ تعالی ہر اس بند ے کو معاف فرمادیتا ہے ،جو کافر نہ ہو اور کسی مسلمان سے بغض اور عداوت نہ رکھتا ہو ۔جو مسلمان آپس میں ناراض ہوتے ہیں ۔۔۔اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے ۔۔۔انہیں چھوڑ دو ۔۔۔۔حتی کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ۔

یہ  حدیث مبارکہ مسند احمد میں ہے،اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ،یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے ۔


صحیح مسلم کی شرح اکمال المعلم میں ہے:

معنى فتح أبوابها: كثرة الصفح والغفران فى هذين اليومين، ورفعة المنازل، وإعطاء الجزيل من الثواب، ويحتمل أن يكون على ظاهره، وأن فتح أبوابها علامة على ذلك ودليل عليه.

ترجمہ :

جنت کے دروازے کھلنے سے مراد ،ان دنوں میں کثرت سے معافی ،بخشش ،درجات کی بلندی اور ثواب کی زیادتی ہے یہ بھی احتمال ہے کہ ان الفاظ کے ظاہر ی معنی ہی مراد ہو ،اور جنت کے دروازے کھلنا ،اس پر دلیل اور علامت ہو۔

(اکمال المعلم ،قاضی عیاض ،ج8،ص 33،دار الوفاء ،مصر)


شاید یہی وجہ ہے کہ  پچھلے بزرگ جمعرات کے دن کو بہت اہتمام سے گزارتے تھے،اس دن روزہ رکھتے تھے ،محافل کا اہتمام کرتے تھے اوراپنے مردوں کو ایصال ثواب کرتے تھے ۔

ہمیں بھی اس دن کثرت سے عبادت ، ذکر اللہ اورتلاوت قرآن کرنی چاہیے ، اس دن اللہ سے معافی مانگی چاہیے ،اس دن کثرت سے صدقہ و خیرات کرنا چاہیے اور اس دن سنت کی پیروی میں روزہ رکھنا چاہیے۔

از

احسان اللہ کیانی 




کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.